Friday, October 31, 2014

Naacht Gaati Tehreek-e-Insaf By Waqas Khawaja




جیسے ہی بچیوں نے ڈانس شروع کیا، فلانی خاتون استغفراللہ کہتی ہوئی چلی گئیں. ایک عورت اپنی بچی کی مہندی کا قصہ دوسری کو سنا رہی تھی. اس کے بعد دونوں خوب قہقہے لگا کر ہنسنے لگیں. ہمارے ہاں یہ کوئی بہت انہونی بات نہیں. ایک ہی خاندان میں آپ کو مختلف مذہبی یا تقافتی رجحانات کے لوگ ملیں گے. کچھ کی شادیوں میں مہندی سرے سے ہو گی ہی نہیں، کچھ کی مہندیوں میں بچیاں دف یا ڈھولک پر گیت گاتی سنائی دیں گی اور کچھ مہندیوں میں جا کر لگے گا جیسے بالی وڈ کے کسی گانے کی پکچرائزیشن ہو رہی ہے. ناچ گانے کی حدود کے تعین میں شدید اختلافات کے باوجود خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ روابط بحال بھی رکھتے ہیں اور خوشی غمی میں شریک بھی ہوتے ہیں


تحریک انصاف کے جلسوں میں بھی کچھ کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے. صرف خواتین کی بات کی جائے تو مکمل برقع پوش اور سر ڈھانپنے والیوں کے ساتھ مغربی لباس میں ملبوس خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے. دھرنے اور جلسے میں بجائے جانے والوں ترانوں پر رد عمل بھی مختلف ہوتا ہے. کہیں بلکل لاتعلقی تو کہیں دھن کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی تالیاں. کہیں جذبات میں اٹھتے بازو تو کہیں باقاعدہ رقص. کیا صحیح اور کیا غلط؟ کتنا صحیح اور کتنا غلط؟ اس میں بھی خواتین کو گھر سے باہر نہ نکلنے دینے سے لے کر ان کو سو فیصد آزادی دینے کے حق میں دلائل کے انبار لگے ہیں اور یہاں کسی بھی لحاظ سے مذہبی دلائل نہیں دیے جا رہے. بس چند گزارشات ہیں


جہاں تک عمران خان کی ذات کا تعلق ہے تو وہ ڈھکے چھپے اور واشگاف، دونوں ہی الفاظ میں کئی بار کہہ چکے کہ ہمیں نہ مغربی تہذیب اپنانی ہے اور نہ بھارتی. جب دھرنا سیرینا ہوٹل کے باہر تھا تو کچھ خواتین فرط جذبات میں ترانوں پر باقاعدہ محو رقص ہو جاتیں تھیں. اس پر عمران خان نے براہراست خواتین کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم نے بالی وڈ کلچر اپنے اندر نہیں لانا. اور اس کے بعد باقاعدہ رقص کا سلسلہ ختم تو نہیں لیکن کافی کم ضرور ہوا. اس کے بعد بھی عمران خان گاہے بگاہے یہ بات دہراتے رہے ہیں. اگر آپ ان کو قریب سے نہ بھی جانتے ہوں تو ان کی تقریروں میں ان کی شخصیت اور ترجیحات سامنے آ جاتی ہیں. وہ خواتین کو معاشرے میں ایک کارآمد کردار میں دیکھنا بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے بھی خلاف ہیں. ہاں یہ رائج کرنے میں تعلیم پر زور ہے. خود اعتمادی بڑھانے اور احساس کمتری مٹانے پر زور ہے. لاگو کرنے کی بجائے اجاگر کرنے پر زور ہے. جو لوگ جلسوں میں شرکت کرنے والی خواتین کو واجب القتل قرار دینے کے عادی ہیں، وہ ہرگز 'محبت فاتح عالم' کا مطلب نہیں سمجھ سکتے


پر سچ پوچھیے تو اتنا بھی زور نہیں. زیادہ زور ملک میں انصاف کا نظام لانے پر ہے. زیادہ زور غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر ہے. زیادہ زور چوری روکنے پر ہے. زیادہ زور ملکی وسائل کا ذاتی استعمال ختم کرنے پر ہے. زیادہ زور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچانے پر ہے. شاید اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول سمجھ بیٹھے ہیں کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نظام نہیں چل سکتا. یا شاید اس لیے کہ نسبتاً بے حیا معاشروں میں جانوروں کے حقوق بھی ہمارے انسانوں سے زیادہ ہیں. کہیے ابھی پوری قوت سے ظلم سے برسرپیکار ہو یا غریبوں کے حقوق کے لیے نکلی خواتین کو یہ کہہ کر واپس کر دے کہ تمہارے سروں پر دوپٹے نہیں؟


اور اعتراض بھی کون کر رہا ہے؟ وہ جو غریبوں کے منہ سے نوالہ چھینتے ہیں اور بچیوں کے سروں سے دوپٹہ چھیننے کا الزام لگاتے ہیں. وہ جن کے فتوے ایندھن کے اجازت ناموں کی پچھلی جانب لکھے ہوتے ہیں. وہ جو سرکاری زمینیں الاٹ کرواتے ہیں اور نام اسلام کا لیتے ہیں. یا پھر وہ جو شراب کے نشے میں دھت ٹیلی ویژن پر آ جاتے ہیں اور علامہ کہلاتے ہیں. اگر انڈونیشیا اور ملیشیا میں جانے والے مسلمان تاجر مولانا فضل الرحمان اور طاہر اشرفی ہوتے تو آج وہاں کتنے لوگ مسلمان ہوتے؟ ٹیلی ویژن پر طاہر اشرفی کو علامہ علامہ کہتے ہیں. مختلف دینی اور معاشرتی مسائل پر ان کی رائے لیتے ہیں. پر ان میں سے کتنے لوگ دینی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو ان کے پاس بھیجنے پر تیار ہوں گے؟ اور ایک سابق صوبائی وزیر نے تو حد ہی کر دی. موصوف ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں اپنی بچی کا تعارف کرواتے ہوئے بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ یہ ڈانس بہت اچھا کرتی ہے. اور تحریک انصاف کے جلسوں میں آنے والی خواتین کے لیے انتہائی نازیبا زبان استعمال کی. ان کے اپنے جلسوں میں انتہائی گھٹیا اصطلاحات استعمال کی گئیں، بازاری اشارے کیے گئے، پر بے حیا تحریک انصاف ہی ٹھہری.


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کی مہندیوں سے استغفراللہ کہہ کر اٹھ جانے والی خواتین عمران خان کے ساتھ کیوں ہیں؟ نسبتاً سخت گیر مذہبی رجحانات رکھنے والے بھی عمران کے ساتھ کیوں ہیں؟ اس لیے کہ ان کی نظریں چند خواتین کی بجائے اٹھارہ کروڑ عوام پر ہیں. وہ دوغلے کرداروں پر راست گوئی کو ترجیح دیتے ہیں. وہ ظلم کا خاتمہ چاہتے ہیں. وہ انصاف کا نظام چاہتے ہیں. ایسا نظام جس میں نہ برقع پہننے کی پابندی ہو نہ برقع پہننے پر پابندی ہو. اور اب جان بیٹھے ہیں کہ اس کی واحد امید تحریک انصاف ہی ہے





by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments