Sunday, November 23, 2014

پاکستاں، پی ٹی آئی اور بیرون ملک پاکستانی By Asif Saleem


Pakistan.pti-aur-beron-e-mulk-pakistani


پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میری وابستگی بھی سالوں پر محیط ھے۔ بیرون ملک قیام کی وجہ سے تحریک انصاف کے منشور کا پرچار بہتر طریقے سے نہ کر سکنے کے رنج کو فیس بک اور ٹویٹر پر تحریک انصاف کی نمائندگی کر کے اپنا قومی و سیاسی حق ادا کرنے کی سہی کرتا رہتا ھوں۔


قلم اٹھانے سے پہلے بیسیوں مضامین زہن میں گردش کر رھے تھے مگر بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل، انکی صلحیتوں اور قومی سیاست و معیشت میں انکے کردار کو اجاگر کرنا سب سے زیادہ مناسب سمجھا۔ بیرون ملک پاکستانی عالمی برادری میں نہ صرف پاکستان کے وکیل ہیں بلکہ پاکستان کے معمار بھی ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں قوم و ملک کی خدمت کرنے والے پاکستانیوں کی اکژیت حقیقتآ کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ھے جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔


بیرون ملک قیام کے دوراں مشکل حالات کے باوجود ان کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ھے اور ہر مشکل گھڑی میں اپنی قوم و ملک کی خدمت کیلیئے ہر آن تیار نظر آتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے میرے ملک کے راشی اور نااہل حکمران ان سے معیشت کی مظبوطی کیلیئے اپیلیں تو کرتے رھتے ہیں مگر ان کو جائز مقام نہ دے سکے اور نہ ہی انکے مسائل کے حل کیلیئے کوئی جامع پالیسی وضع کر سکے۔


پاکستان تحریک انصاف جو بیرون ملک پاکستانیوں کی واحد نمائندہ جماعت ھے اور بین القوامی سطح پر پاکستانیوں کے ساتھ جڑی ھوئی بھی ہے، پر یہ زمہ داری عائد ھوتی ھے کہ وہ ان کے حقوق کے لیئے آواز اٹھائے۔ اور انکے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی کرے۔ تمام تر حقوق میں سر فہرست '' ووٹ '' کا حق ھے۔ اس حق کو دلانے میں اگر تحریک انصاف کارنامہ سرانجام دے دیتی ھے تو یقینآ پاکستان کی آئندہ آنے والے نسلیں بھی عمران خان اور تحریک انصاف کی معترف ھونگی۔


یوں تو اخباری اطلاعات کی حد تک رائے دہی کا حق فروری 2013 کے الیکشن کے بعد دے دیا گیا تھا لیکن ابھی تک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عملی طور پر اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ جبکہ اس مشکل کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے بین القوامی دنیا سے رابطے اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ھے، جس کی دستیابی چند مہینوں میں ممکن نہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ حق رائے دہی کے طریقہ کار کو وضع کرنا ، عوام کو اسکی آگاہی دینا بھی اس عمل کا حصہ ھے۔ لیکن بدقسمتی سے جہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان سست روی اور نااہلی کا شکار ھے وہیں پاکستان کی وزارت خارجہ بھی چشم پوشی سے کام لے رہی ھے۔ ایٹمی طاقت کے حامل ملک کا کوئی باقاعدہ وزیر خارجہ ہی نہیں اور جس کے یہ پاس اضافی عہدہ ھے وہ پرچی دیکھی بغیر بات کرنے کا سلیقہ نہیں رکھتا۔


اس بنیادی حق کے ملنے کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں میں نہ صرف اعتماد بڑھے گا بلکہ ملکی سیاست اور معیشت کے ساتھ ان کا رشتہ بھی مظبوط ھو جائے گا۔ اور وہ ملکی سیاسیت اور معیشت کے ساتھ باالواسطہ جڑ جایئں گے۔ ایک بیرون ملک پاکستانی جو پاکستان میں ایک خاندان کی کفالت و نمائندگی کرتا ھے وہ پاکستان میں بھی ''ووٹنگ'' کے عمل پر بھی بہتر طریقے سے اثرانداز ھو سکے گا۔ اور اپنی کفالت میں اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے ووٹ بھی تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال سکتاھے میں یقین سے کہہ سکتا ھوں اگر عمران خان بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوا دیں تو انہیں پاکستان میں ووٹ مانگنے کی بھی ضرورت نہیں رھے گی۔ کیوںکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی 80٪ تعداد پاکستان تحریک انصاف کی حمایئتی ھے۔ جس کا اندازہ دیگر جماعتوں بخوبی ھے اور یہی وجہ ھے کہ مسلم لیگ اور پپلزپارٹی اس نیک کام کو کرنے کیلیئے آمادہ نظر نہیں آتیں۔ موقعے سے فائدہ اٹھاتے ھوے میں یہاں خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا زکر بھی کرتا چلوں جو مجموعی طور پر مزدور پیشہ ہیں۔ اور انکی بڑی تعداد تحریک انصاف کی شیدائی ھے مگر یورپ و امریکی کی طرح چونکہ یہاں سیاسی سرگرمیوں کی کھلے عام اجازت نہیں ھے اس لیئے ان کی آواز کسی فورم پر سنائی نہیں دیتی۔ ان پڑھے لکھے ہنر مند پاکستانیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا سب سے بہتر اور آسان طریقیہ انھیں رائے دہی کا حق دلانا ھے۔


عمران خان اور تحریک انصاف کے راہنماؤں سے گزارش ھے کہ جہاں وہ دیگر قومی و بین القوامی مسائل کے حل کیلیئے کمربستہ ہیں وہاں اس اھم معاملے کو بھی منطقی حل کی طرف لے کر جایئں۔





by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments