Friday, March 20, 2015

دے جا سخیا راہ خدا باعث افتخار By Iftikhar Chaudhari


day-ja-sakhiya-rah-e-Khuda-By-Iftikhar-Chaudhari


دے جا سخیا راہ خدا تیر اللہ ہی بوٹا لائے گا۔گجرانوالہ کے محلے باغبانپورے کی گلیوں میں لگتی صدائیں آج پھر کانوں میں گونج رہی ہیں سینیٹ کا ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن جیتنے کے بعد وہ ایک نیا کشکول لے کر در رائے ونڈ پر سجدہ ریز ہونے والے ہیں کہ انہیں نواز دیا جائے ایک وزارت سے ایک جھنڈہ عطا کر دیا جائے تا کہ وہ اپنے بھائی کو مطمئن کر سکیں اس بھائی کو جسے پی ٹی آئی کے ایک مرد درویش نے چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ہم چھوٹے تھے بالو کڑیو شیرینی ونڈی دی لئے جاؤ کی آواز پر دھڑک لگا دیا کرتے تھے ایک بار لینے کے بعد بچے شور کیا کرتے میرے بھرا کے لئے بھی دے دو۔مولانا اس بار غفور حیدری کی شیرینی لینے کے بعد بھائی کے لئے وہ وزارت مانگنے پہنچ رہے ہیں جو غفور حیدری نے چھوڑی تھی۔میرا حافظ حسین احمد سے کیا لینا دینا لیکن مولانا نے اسے کس جرم میں رگڑا دے رکھا ہے ایک بار انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ہر پارٹی میں مشرف ہوتا ہے غالبا یہی ان کا جرم ہے جس کی سزا اس ذہین سیاست دان کو دی جا رہی ہے۔


اقتتدار کے بغیرمولانا فضل الرحمن ایسے ہی جیسے مچھلی بنا جل۔ چالاک مچھلی جو نہ صرف ایم ایم اے بلکہ ملت اسلامیہ کا صیح درد رکھنے والے قاضی حسین احمد مرحوم کو بھی نگل گئی۔ مجھے اے پی ڈی ایم میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔اسلام آ بادمیں تحریک انصاف کے دفترمیں ان کی میزبانی کے فرائیض بھی انجام دیے ہیں اور میاں اسلم کے ہاں ان اجلاسوں میں بھی شرکت کا موقع ملا جن میں صوبہ سرحد کی حکومت سے مستعفی ہونے کی بابت بات کی جاتی تھی۔ایک بار تو قاضی صاحب نے اعلان کر دیا کہ آپ بات پکی سمجھیں استعفی تیار رکھیں میری مولانا سے مکہ مکرمہ میں بات ہو گئی ہے بس آتے ہی مشرف حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔مگر لیت و لعل کے ماسٹر مولانا کسی کے ہاتھ نہ آئے جو اسے گھڑے کی مچھلی سمجھتے تھے وہ ان کے ہاتھوں میں آ کر بھی پھسلتے رہے اور جنرل مشرف کی حکومت کا خاتمہ بلآخر سڑکوں پر جد و جہد میں ہوا۔۱۹۵۳ میں ڈیرہ اسمعیل خان میں پیدا ہونے والے مولانا فضل الرحمن کو اقتتدار کا چسکہ ۱۹۸۸ میں پڑا پہلے پہل تو انہوں نے عورت کی حکمرانی کے خلاف ایک مضبوط مو ء قف اختیار کیا جسے کشمیر کمیٹی کی سربراہی نگل گئی۔ پھر اسی عورت کی حکومت کا مضبوط سہارا بھی بنے۔ ان کے والد مولانا مفتی محمود جو تحریک پاکستان کے شدید ترین کانگریسی دھڑے کے رکن تھے جو ۱۹۴۰ میں کانگریس کی مسلح جد و جہد آزادی کے رکن تھے ۔ کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے تو انڈیا کے دورے کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کی مسلح جد و جہد آزادی کو نشانہ ء تنقید بنایا انہوں نے ہندوستان کی سر زمین میں ہندوستان کے مو ء قف کی بھر پور تاید کی جسے انڈیا نے بار ہا ایک ریفرینس کے طور پر استعمال کیا۔جس مکتب فکر کی نمائندگی کرتے ہیں اسی نے قاید اعظم کو کافر اعظم کہا تھا البتہ مولانامفتی شبیر عثمانی کی خدمات نے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کانگریسی علماء نے پاکستان کے قیام میں نہ صرف روڑے اٹکائے بلکہ قاید اعظم کی کردار کشی کو بھی ایک مذہبی فریضے کی طرح جان کر ڈٹ کر مخالفت کی یہی وجہ ہے کے سرحدی گاندھی کے معتقدین سے ان کا گٹھ جوڑ خوب چلتا ہے۔قاید اعظم نے عظیم محقق اور عالم دین مولانابوالکلام آزاد کو کانگریس کا شو بوائے اسی لئے قرار دیا تھا کہ جید علماء کی صف سے وہ دو قومی نظریے کی مخالفت میں سامنے آئے۔ دینی علوم کے ماہر اورخطیب تو بلا کے تھے مگر حسن نیت میسر نہ ہونے کی وجہ سے قوم نے انہیں یکسر مسترد کر دیا۔


آج بھی جب پاکستان کے سربراہ مملکت کا جب ہندوستانی دورہ ہوتا ہے تو دیو بند مدرسے سے کسی کرائے کے ملا کو اس کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے جو چرب زبانی سے ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اور بڑے امن چین سے سہنے کی بات کرتا ہے اور دہائی دیتا ہے کہ ہم پاکستانیوں سے بہتر زندگی گزارتے ہیں اور ہمیں کشمیر میں در اندازی کر کے پریشان نہ کیا جائے۔(جنہیں شک ہے ایک عالم دیو بند کایو ٹیوب پر جنرل مشرف سے مکالمہ دیکھ لیں،جس میں صدر پاکستان کا مذاق اڑایا گیا البتہ یہ بھی لکھے دیتا ہوں کے سارے علماء دیو بند ایسے نہ تھے اور نہ ہیں اس لئے کہ ان میں وہ شیر بھی شامل تھے اور ہیں جنہوں نے تاج و تخت و ختم نبوت کے لئے جانوں کے نذرانے دیے۔میں خود قادیانی تحریک میں مدرسہ اشرف العلوم سے گرفتار ہوا)


مولانا کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے اور کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیری مجاہدین کی جو فہرست انڈیا کو مہیا کی گئی تھی وہ حضرت فضل نے دی تھی اعتزاز احسن تو ویسے ہی دھر لئے گئے بہر حال یہ بات اللہ جانتا ہے مگر ہمیں وکی لیکس کے ذریعے علم ہوا کہ امریکی سفیر کو مولانا نے کہا تھا کہ کبھی داڑھی والوں پر بھی بھروسہ کر کے دیکھیں مایوس نہ کریں گے۔سابق امریکی سفیر پیٹریسن نے بھی اپنی یاد داشتوں میں اس کا ذکر کیا۔تحریک انصاف سے حضرت کی دشمنی اس وجہ سے ہے کہ اس نے ان کے اقتتدار پر اس صوبے میں ہاتھ ڈالا ہے جسے وہ جیب میں سمجھتے تھے اور جس کی وجہ سے مشرف،بے نظیر کو تگنی کا ناچ نچاتے رہے ۔فرشتوں نے عمران خان کی دکان تو لوٹ ہی لی مگر اس کے نتیجے میں حضرت کی ہٹی بھی خالی ہو گئی ہے۔ دنیامولانا کا دکھ سمجھتی ہے وہ صوبہ پختونخوا میں حکومت نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں ان کی مرکز میں بھی بھی آؤ بگھت نہیں ہوئی انہیں ایک پل چین نہیں آ رہا اور وہ پہلے دن سے ہی مخلوط حکومت کو گرانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ادھر حکومت کی اجازت دینے والی مسلم لیگ بھی اسی طاق میں ہے کہ اگر حکومت ناکام ہوتی ہے تو بھلا اور اگر کامیاب ہوتی ہے تو دو چار ماہ بعد دیکھ لیا جائے گا۔یہی وجہ ہے شوکت یوسف زئی گلہ کر رہے تھے کہ ہمیں مرکز نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ ڈیرہ اسمعیل خان جیل ٹوٹی ہے آپ کیا کر رہے ہو؟کیا مدد چاہئے؟ گویا تحریک انصاف کی حکومت نہ ہوئی کسی غیر ملکی طاقت کا کنٹرول ہے اس مظلوم صوبے پر۔


مولانا کی اپنی پارٹی کا یہ حال ہے کہ ایک بار حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہر پارٹی کے اندر ایک مشرف موجود ہے جس کسی دوسرے کو سر نہیں اٹھانے دیتا ان کا اشارہ مولانا کی طرف تھا آپ نے دیکھا انہیں مکھن سے بال کی طرح نکال کے رکھ دیا گیا ہے؟۔مولانا ایک بار طالبان کے پالن ہار کی شکل میں سامنے آئے اور بے نظیر دور میں طالبان کے ساتھ نصیراللہ بابر دوستی کرانے میں بھی ان کاہاتھ رہا ہے۔مگر لال مسجدواقعے کے بعد ان کی اس مکتب فکر سے دوری ہوئی ہے مگر ووٹ کی حد تک وہ لوگ اب بھی مولانا کے ساتھ ہیں۔ڈیزل لفظ سے انہیں پیار ہے پیار اس لئے کہ بے نظیری دور میں افغانستان کے لئے ڈیزل کی ایکسپورٹ سے انہوں نے بلینز ڈالر بنائے۔مشرف دور میں کوڑیوں کے بھاؤ زمینیں ہتھیائیں باوجود اس کے جبہ و دستار نے انہیں ایک مخصوص طبقے کا ہیرو بنا رکھا ہے خاص مکتب فکرکے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔مفتی عابد میرا بھتیجہ ہے اس سے میں نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے مولانا جس طرز سیاست سے آشناء ہیں وہ منافقت کے قریب تر ہے اس نے بڑا کھرا جواب دیا منافق سیاست دانوں کے ساتھ منافقت جائز ہے۔یہی وہ طرز فکر ہے جو ہر شہر ہر گلی میں بننے والے مدرسے کے طالب علم کے ذہن میں ڈال دی جاتی ہے۔پاکستان کے اقتتدار پر اگر طالبان قابض ہوتے ہیں تو کیا انہیں کابل غزنی ننگر ہار سے سفر کرنا پڑے گا انہی مدارس کے طلباء کے ہاتھ میں گن دے دی جائے گی یہاں مجھے حلقہ یاران وطن کے نور جرال کی بات یاد آئی ہے ۹۰ کی دہائی میں جب ہم عسکری تنظیموں کی کامیابیوں پر مسرت کا اظہار کرتے تو میرے دوست نے کہا تھا کل جب یہ لوگ پاکستان کی طرف پلٹے تو دیکھنا گلی کوچے اپنے ہی ہموطنوں کے خون سے رنگیں گے۔اللہ کرے میں غلط ہوں انڈیا اسرائیل اور ہمارے دشمن جو کاروائیاں کرتے ہیں وہ تو ہوتی ہیں مگر ان میں ہمارے مہربان بھی پائے جاتے ہیں۔الہی خیر۔


عمران خان نے لال مسجد کے واقعے کے بعد بڑی خوبصورت بات کی تھی ۔بحیثیت ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چونکہ میں اسلام آ باد میں تھا،میں نے خان صاحب سے ان کا مو ء قف چاہا ان کا کہنا تھا کے کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کا جواب اس سے بڑھ کر انتہا پسندی سے دینا غیر دانش مندی ہے۔ ناعاقبت اندیشوں نے بچوں پر فاسفورس استعمال کیا ،جس کے نتیجے میں شہداء کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی جلے۔میں تو خود اس واقعے کا چشم دید گواہ ہوں۔ شدت پسندی اور اپنی فکر کو زبردستی کسی اور پر مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ایک جانب جب میں لال مسجد کے واقعے پر نوحے لکھتا رہا اور دوسری طرف جب کچھ لوگوں کی طرف سے اپنے مسلک کے لئے دھونس کا استعمال دیکھتا ہوں تو چپ نہیں رہ سکتا۔ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکامات ماننے والوں کی جوتیاں سیدھی کرنا ثواب سمجھتے ہیں مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دوسرے مکتب فکر کے مدارس پر اسلحے کے زور پر قبضہ کر لیا جائے اس کی تازہ مثال ائرپورٹ سوسائٹی کی جامع مسجد حسن اور ریلوے انڈر پاس کے پاس نئی بننے والی مسجد ہے ایسی ہی ہزاروں مساجد پر قبضے جاری ہیں ٹیوٹا ڈالوں پر دہشت گردانہ صورتوں کے حامل لوگ آتے ہیںِخوف و حراس پھیلاتے ہیں اور دوسرے مکاتیب فکر کی مساجد پر قبضے کر لیتے ہیں۔یہ ایک حساس موضوع ہے مگر لکھے گا کون؟خواجہ سراؤں سے قلمقاروں کی بستیاں بھری پڑی ہیں کوئی تو ہو جو اس مسئلے کو اجاگر کرے۔ کوئی تو سچ لکھے اگر ظلم ان پر ہو تو چیخے اور یہ کسی پر کریں تو ان کا ہاتھ روکے میں نے جو کچھ سیکھا وہ یہ ہے کہ مسلامن ہر حال میں اپنے بھائی کی مدد کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔آقائے نامدار سے پوچھا گیا مظلوم کی تو سمجھ آ تی ہے ظالم کی نہیں ۔انہوں نے فرمایا مظلوم کی مدد اسے ظلم سے بچا کر کرو اور ظالم کی مدد اسے ظلم سے روک کر کرو۔یہی میرا مطمع نظر ہے یہی وجہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز لال مسجد والے بھی میرے مہمان بنتے ہیں اور طاہر القادری بھی۔لوگوں نے مجھے ایک مخصوص طبقے کا دشمن قرار دیا ہے ہاں میں ہوں اور وہ ظالم طبقہ ہے۔صہباء اختر نے کہا تھا


وہ تیری صف میں ہو یا میری صف میں


میں ہر ظالم پے لعنت بھیجتی ہوں


طالبان کوئی شیطانی مخلوق نہیں کہ جن کے آنے سے قیامت ٹوٹ پڑے گی مگر ایک ایسی تبدیلی جس کا مجھے آپ کو اور پاکستان کے کروڑوں عوام کو ہے وہ بندوق کی نوک سے نہیں ووٹ کی پرچی سے ہے۔ اس کاخواب قاید اعظم ،اقبال اور چودھری ر حمت علی نے دیکھا تھا وہ جمہور کی آواز کے ذریعے تبدیلی ہے،ویسے تو سچی بات ہے جمہوری تبدیلی سے اقوام کا ایمان مصر الجزائر کی صورت حال دیکھنے کے بعد اٹھ سا گیا ہے لگتا ہے جمہوریت کا چورن صرف مغرب کے پیٹوں کے لئے ہے دیسی مسلمان پیٹ اسے استعمال نہ کریں شاید یہ تعلیمات جمہوری بک لیٹ میں درج ہیں؟


مولانا فضل ارحمن کی دکان کی بکری کم ہو گئی ہے ، بھارت کے اندر بھارت کی زبان بولنے والے ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ بھارت کا حامی پاکستان کا دوست اور اور اسے شکست دینے والا یہودی کا ایجینٹ کیسے ہو گیا؟مولانا آپ ظلم کر رہے ہیں ایک ایسے شخص پر جو اکثر اوقات باوضو مجلس میں بیٹھتا ہے اور میں نے اکثر دیکھا کہ عمران خان مجلس سے اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے۔ اس کے ڈپٹی اپیکر کو تو دس ووٹ زیادہ مل گئے آپ سے اظپار نفرت کیں اس پر غور کریں۔یمیں آپ کا دوست ہوں آپ کو ظلم سے بچانا چاہتا ہوں۔اور عمران خان کا ساتھی ہوں ۔ ایک مسلمان کو یہودی کہنا گناہ کبیرہ ہے ۔مولانا اللہ تعالی ہمیں اور آپ کوستونوں کے درمیان بھڑکتی آگ سے بچائے۔آمین۔ اس پاپی پیٹ کو دنیاوی آگ سے کیوں بھرتے ہیں آپ کس ہوشیاری اور چالاکی سے آپ کھوٹے کھرے کر لیتے ہو۔اپنے بھائی کے لئے شیرینی نہ مانگئے علامئے حق تو ذاتی غرض و غایت سے بالا تر ہوتے ہیں۔دے جا سخیا راہ خدا





by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments