میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو ضمیر ہے میرے عدالت کی
31فروری بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے سہ پہر پیرس میں آئے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اوورسیز چیپٹر کے جنرل سیکیرٹری ڈاکٹر ہمایوں مہمند سے انٹرویو کا وقت طے تھا ـ روزنامہ تحریک انصاف کی جانب سے افضال گوندل : بابر مغل کیمرہ مین کے ساتھ ہم تین افراد پے مشتمل ٹیم نے ان کا انٹرویو کیا ـ
پچھلے دنوں ہونے والے گھمبیر مسائل اور ڈاکٹر صاحب کے خلاف انگنت باتوں کا سننا پڑھنا مجھے یوں بتا رہا تھا جیسے وہ کوئی عمر رسیدہ انسان ہیں جن سے یہ سونامی زچ آچکی ہے ـ ان کی پختہ عمر کے سامنے ان کا بس نہیں چل رہا جھِلا جھِلا کر اناپ شناپ کہا جا رہا ہے ـ
سامنے سے آتے ہلکی سی نرم مسکراہٹ کے ساتھ وہ الگ تاثر دے رہے تھے ـ
انسان کا چہرہ غماز ہوتا ہے اس کے باطن کا ـ روشن چہرہ چمکدار ذہین آنکھیں ـ بے باک کھرا بے خوف ستھرا لہجہ مجھے صرف ایک جملے میں ڈاکٹر ہمایوں صاحب کےمتعلق سب بتا گیا ـ
بد نصیبی ہے اس قوم کی کہ اس کو عادت ہو گئی ہر کام دو نمبر سے کرنے کا ـ کچھ ہم خیال منفی قوتیں مل بیٹھ کر خود کو جماعت بنا کر اپنی غلط بات کو طاقت کے بل بوتے پر
غلط سوچ کو مشترکہ حِکمتِ عملی سے سامنےلاکراس کو آکٹوپس کی طرح پھیلے ہوئے اپنے نیٹ ورک سے سچا ثابت کر نے پے تُل جاتے ہیں ـ
ایسا ہی کچھ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہوا ـ مگر ان کے ساتھ بات شروع ہوئی تو ازحد خوشی ہوئی کہ میرے سامنے کوئی گھاگ ذا تی شہرت کا بھوکا انسان نہی ہے بلکہ ایک ایسا انسان ہے جس کی سوچ اپنے قائد کیلئے اپنے ملک جماعت کیلئے سو فیصد خالص ہے ـ
وہ قطعی طور پے نہیں گھبرائے اس شور مچاتی سونامی سے ـ میرے پوچھنے پے انہوں نے بتایا کہ اصل میں ذیلی سطح پے پارٹی جھگڑے اوپر بڑ وں کی لڑائی کی وجہ سے ہوتے ہیں ـ کچھ لیڈران ہیں جو پارٹی میں اپنا دن بدن کھونے والا مقام دیکھ کر قدرے پریشان ہو جاتے ہیں اور اس کو واپس لانےکیلیۓ کام کی بجائے بیرون ملک مقیم پارٹی ممبران کو من قسم کروا کے پھوٹ ڈ لوا کے اپنے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں جو صریحا غلط فعل ہے ـ
پارٹی میں ذاتی اختلافات کی بالکل گنجائش نہیں ـ ہماری پارٹی جمہوری روایات کی ضامن ہے ـ ہمیں مثبت اور بہتر راستے کا انتخاب کرنا ہے ایسے ہتھ کنڈوں سے ہم کسی کو ختم نہیں کرسکتے البتہ اپنے لئے پارٹی میں ناپسندیدگی کا تناسب بڑھاتے ہیں ـ
ڈاکٹر ہمایوں پاکستان کیلیۓ اس دہشت گردی کے دور میں انسانیت کی فلاح کیلئے کام کرنے والا ممتاز نام ـ
دنیا میں پلاسٹک سرجری کے ماہرین کی بہترین ٹیم جو 30 افراد پے مشتمل ہے انہی صف اول کے تیس ڈاکٹرز میں ان کا شمار ہےـ
یہ ہے روشن چہرہ جس کی آج پاکستان کو سیاسی سماجی معاشرتی ہر جگہہ پے آج ضرورت ہےـ ایسے انسان کو اس تاریک دور میں ہم پاکستان کیلیۓ تاریکی میں روشنی کی کرن کہیں گےـ کاش ہم اپنے ایسے گوہرِ نایاب ہستیوں کو پرکھ سکیں ـ چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے ایسی شخصیات کو دانستہ طور پے بدنام کرنے سے باز رہیں ـ بلکہ ان کی افادیت کو پوری دنیا کے سامنے لائیں ـ
عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں قوم کیلیۓ یہ مشکل کام تو سر انجام دیا ـ ٹیم بنانا بہت مشکل کام ہے ـ سچے مخلص ہمدرد ایماندار لوگ اس دور میں کسی کو دکھائی نہیں دیتے ـ منافقت کے موافقت کے اس دورِ میں صرف سیاست میں لین دین کی بنیاد پے کام ہوتا ہے ـ منظر عام پے آنے سے پہلے پاکستان کے نعرے لگانے والا سیاسی لیڈر ذرا سی شہرت ملتے ہی پینترا بدلتا ہے ـ اب اسکو عہدہ چاہیے پاکستان پارٹی عوام درد نجانے کہاں کھو جاتا ہےـ
ڈاکٹر ہمایوں مہمند عہدوں سے دور اپنے ملک کی خاطر سسٹم کو بہتر کرنے کے خواہاں ہیں ـ
ان کا کہنا تھا میں فارغ وقت میں ٹی وی پے ہونے والے ٹاک شوز دیکھتا تھا ـ غصے سے پیچ وتاب کھاتا تھا ـ کہ یہ جھوٹے دو نمبر لوگ کل کچھ کہہ رہے تھے آج کچھ بیان دے رہے ہیں ان کو غیرت ہے یا نہیں؟ یہ کس منہ سے عوام کی بات کرتے ہیں ـ
ان کا کہنا تھا ایک دن کسی کی بہت ہی منافقانہ گفتگو سننے کے بعد اسکو دل ہی دل میں صلواتیں سنا رہا تھا کہ اچانک اندر سے آواز آئی
تم بھی پڑھے لکھے ہو اگر پاکستان کا درد ہے تو گھر بیٹھ کر صرف غصے سے کام نہیں چلے گا ـ ان کے بل پیچ نکالنے ہیں تو سامنے آؤ ـ نظام کی کمزوری اگر پریشان کرتی ہے تو کود پڑو میدان میں اور درست کرو نظام کو ـ
ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے
ان کو عمران خان کرکٹ دور سے ہی پسند تھے ـ اس کے بعد بطورِ ڈاکٹر جب انہوں نے شوکت خانم میموریل کا شاندار کام دیکھا تو وہ سوچتے تھے کہ اس گندی سیاسی دنیا میں یہ انسان واحد ہے جو اپنی بات سے مکرتا نہیں "" صادق "" ہے اور امین "" بھی ـ
بس کچھ روز سوچا پھر میں نے تحریک انصاف کو جوائن کر لیا پاکستان کے نظام کو بچانے کیلیۓ عملی طور پے متحرک ہو گیا ـ
اس کے بعد پارٹی ممبران کا اعتماد میرے کام کی شفافیت کہ الحمد لِلہ آج اوور سیز چیپٹر کیلئے آپ کے سامنے ہوں ـ
ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا ـ کہ کوشش کریں کہ پی ٹی آئی بیرونِ ملک متحدہ طور پے کام کرے اور اپنی شناخت اپنی حیثیت کی طاقت کو منوا سکے ـ لیڈرز کے پیچھے چل کے پارٹی کے کام کو متاثر نہ کریں ـ ان کا کہنا تھا کہ وہ عہدے کیلیۓ قطعی طور پے پابند نہیں رہنا چاہتے ـ وہ نظام کی درستگی کا عزم لے کر شامل ہوئے تھے عمران خان کے اس بیڑے میں ـ اب اس کو پار لگانا ہےـ
ڈاکٹر صاحب نے دہشت گردی کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا جو لوگ کہتے ہیں کے پی کے میں ہم ناکام ہوئے ہیں تو ان کو کہنا ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور وہاں سے ناکام ہو کر جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک باریک شاخوں کی صورت ایسے پھیلا ہوا ہے جس کو آسانی سے ختم نہیں کیا سکتا ـ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جس انداز میں تباہ کیا جارہا ہے وہ صرف ایک مخصوص گروہ کا کام نہیں اس وقت کئی اقسام کے تخریبی ذہن پاکستان میں تباہی پھیلا رہے ہیں ـ
ان سے اسی صورت نمٹا جا سکتا ہے جب قوم متحد ہو اور لیڈر ایماندار غیور ہو ـ
ان کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم نے پاکستان بنایا لیکن چلانے کا ذمہ قائد کا نہیں تھا بلکہ سیاسی جماعتوں اور عوامی طاقت نے اس ملک کو منظم کر کے چلانا تھا ـ اب پھر وہی ابتری دکھائی دیتی ہے اور ضرورت ہے کہ ہم سب باہمی اختلافات سے بلند ہو کر ملک کیلیۓ کچھ کریں ـ
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ساتھ مل کر چلنے پر ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ پارٹی قیادت مل کر کرے گی ـ وہ اپنی پارٹی کے ہر فیصلے کے پابند ہیں ـ
یہ تو تھیں چند باتیں جو ان سے ہوئیں
اب آتے ہیں تجزیے کی طرف
بطورِ تجزیہ نگار میں نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر صاحب ا نتہائی دیانتدار انسان ہیں ـ قابل قدر انسان ہیں ـ اتنے بڑے ڈاکٹر ہو کر بھی عاجز سے انسان ہیں ـ اختلاف رائے کو جمہوری حسن قرار دیتے ہیں ـ عمران خان کی سوچ اور پارٹی کو نقصان دینے والے ہر رکن کا سختی سے محاسبہ کرتے ہیں خواہ وہ خود ہی کیوں نہ ہوں ـ
پارٹی کو پاکستان کیلئے بہترین نمائیندہ جماعت سمجھتے ہیں ـ عمران خان سیاسی قائد نہیں حقیقی عوامی رہنما سمجھتے ہیں جو واقعی سچا درد اور احساس رکھتے ہیں ـ
فرانس کی ٹیم کیلیۓ آخر میں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا یورپی کنونشن کے حوالے سے ان کے نکتے کو سمجھا نہیں گیا ـ جس کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ـ ایک بات ان کی بہت اچھی لگی ان کا کہنا تھا میری سوچ کا اختلاف کسی کی سوچ سے ہو سکتا ہے لیکن میں ذاتی پسند اور نا پسند کو پارٹی ورکرز پے نافذ نہیں کرتا یہ اپنے عہدے اپنی پارٹی سے نا انصافی ہوگی ـ میں یہاں پیرس میں قیام کے دوران سب ممبران سے ملاقات کروں گا خواہ وہ میرے ساتھ ہیں یا مجھ سے اختلاف رکھتے ہیںـ بہت اچھی بات جس کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہےـ
ان کی شخصیت اور گفتگو ان کی اندرونی کیفیت کا احساس دے رہی تھی ـ
پاکستان کیلئے فکر مند انسان " عمران خان کا پیغام پوری طاقت سے ملک کے طول وارض سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلے اسی کی سوچ ظاہر ہوتی رہی ـ
ہم لوگ کب تک ہر مخلص انسان اچھے لیڈر کو اس کی سادگی کی سزا دیتے رہیں گے؟
آکٹوپس کی طرح پورے نظام کو جکڑ کر اس کی رگوں سے خون نچوڑ کر اس کو نیم مردہ کر کے پھینکتے رہیں گے؟
کب ہمارے ضمیر جاگیں گے جو ہماری کمزور سوچ کے علمبردار نہیں ہوں گے جو کسی کچھ لین دین پر خاموش نہیں رہیں گے ـ بلکہ ضمیر جھنجھوڑ کر کہے گا ایسے انسانوں کی قدر کرو کہ یہ پاکستان میں نایاب ہیں ـ ٌ
ڈاکٹر صاحب
آپ سے مل کر میرا اعتماد جو اس رسہ کشی کے دوران کھو چکا تھا قدرے بحال ہوا ہے ـ آپ کا بلند حوصلہ میرے ڈولتے ہوئے اعتماد کو بھی آبِ حیات پِلا گیا ـ
انشاءاللہ
آپ جیسے ہیرے پی ٹی آئی میں ہیں تو اس کو زوال نہیں بے شک کئی منفی سوچیں مدمقابل ہوں ـ
سچائی آج کی دنیا میں بہت کم ہے ـ لیکن ابھی موجود ہے ـ آپ اسی کم مقدار سچائی کا قیمتی حصہ ہیں ـ انشاءاللہ !! ذات کی بلندی پانے والے خود بخود سامنے سے ہٹ جائیں گے اور بڑے مقاصد والے بڑی سوچ کے ساتھ آپ کی طرح بلند قامت دکھائی دیں گے ـ
شکریہ عمران خان ڈاکٹر ہمایوں مہمند کی صورت مخلص نفیس اور بے باک مومن پی ٹی آئی میں شامل کرنے کیلئے
پاکستان زندہ باد
پی ٹی آئی پائیندہ باد
ارادے جن کے پُختہ ہوں نظر جن کی خُدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments