Saturday, May 9, 2015

دھاندلی کا شور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لیکن کس کی ترقی؟ By Muhammad Tehseen

dhandli ka shor taraqi ki rah main rukawat hai lakin kis ki taraqi by muhammad tehseen


جب بھی نون لیگ کی چوری اور دھاندلی کے خلاف بات کی جاتی ہے، یا کہیں دھاندلی اور چوری ثابت ہوجاتی ہے تو ان کا ایک پورا جتھہ ٹی وی پر آکر بیٹھ جاتا ہے اور رونا شروع کردیتا ہے کہ یہ ترقی کے راہ میں رکاوٹ ہے، ہم یہ کر رہے ہیں وہ کررہے ہیں، غرض وہی رٹی رٹی تقاریر جو انہیں انگلیاں اٹھا کر اور پوری ہتھیلی لہرا لہرا کر پچھلے ٣٠ سال سے کرنے کی عادت ہے۔ وہ کہتے تو سہی ہیں کہ اگر کوئی دھاندلی کے خلاف بات کرے یا دھاندلی پکڑی جائے تو یہ ترقی کی راہ میں یقینا رکاوٹ ہے لیکن معذرت کے ساتھ ترقی ملک کی نہیں ان کی اپنی۔ کیونکہ جب سے یہ لوگ سیاست میں آئیں ہیں ملک تو اندھیروں میں ڈوبتا چلا جارہا ہے اور ان کی بزنس ایمپائرز ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ کیا کوئی جواب دے گا یا اس ملک کا کوئی ادارہ پوچھے گا کہ ریلوے جیسے ادارے پر ایک جعلی ممبر قومی اسمبلی اور جعلی وزیر دو سال تک بیٹھا رہا وہاں اس نے بہت سے معاہدے کیے اور صحیح یا غلط جو بھی کام کیے ان کا حساب کون دے گا؟ کیا اب وہ قانون کی رو سے جائز ہیں؟

ان سے ایک سادہ سا سوال ہے آپ کے گھر میں کچھ چور گھس آتے ہیں اور آپ کے گھر پر قابض ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ سے وعدے کرتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے اور آپ کے گھر کے لیے یہ یہ چیزیں کردیں گے بس آپ ہمیں اپنے اور اپنے گھر پر قابض رہنے دیں تو کیا آپ اجازت دیں گے؟ اس طرح یہ ملک ہمارا گھر ہے، آپ اس کی سڑکیں سونے چاندی کی بنا دیں اور نہروں میں دودہ اور شہد بہا دیں لیکن اگر آپ الیکشن چوری کرکے آئے ہیں اور جعلی نمائندے ہیں تو مجھ سمیت پاکستانیوں کی اکثریت کو یہ قبول نہیں۔ اس کے برعکس آپ کا مینڈیٹ بالکل سہی ہے اور آپ جائز طریقوں سے اسمبلیوں میں آئے ہیں اور لوگوں نے آپ کو منتخب کیا ہے تو بیشک آپ سارا کچھ لوٹ کر باہر لے جائیں اور یہاں کچھ کام نہ کریں الٹا لوگوں پر ظلم کریں تو پھر یہ لوگوں کا ہی قصور ہے جو آپ کو منتخب کرتے ہیں۔

اس لیے مہربانی فرما کر اپنی چوریوں اور اقتدار کو چھپانے کے لیے کبھی جمہوریت، اور کبھی جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش نا کیا کریں۔ آپ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک آپ نوے کی دہائی سے باہر ہی نہیں آسکے جب صرف ایک پی ٹی وی ہوتا تھا اور آپ جو بھی جھوٹ بولتے تھے وہی سچ ہوتا تھا کیونکہ لوگوں کے پاس انفارمیشن کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اب ہر پاکستان کے گھر میں آپ کے پی ٹی وی کے علاوہ دو درجن سے زائد نیوز چینلز آتے ہیں۔ دس کروڑ لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور کروڑں لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی بھی ہے۔ اس لیے ان زمینی حقائق کو قبول کریں۔ اگر عوام نے آپ کو منتخب کیا ہے تو سر آنکھوں پر لیکن اگر چوری کی ہے یا کروائی گئی ہے تو پھر ایسے ہتھکنڈوں یا جھوٹ سے آپ بہت دیر حکومت نہیں چلاسکتے


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments