Wednesday, May 13, 2015

سعد رفیق کیسے بحال ہوئے By Muhammad Tehseen

Saad-Rafique-kaisay bahal howay by muhammad tehseen
آج سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے سعدرفیق کو ایم این اے کے طور پر بحال کردیا ہے۔ اس پر سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے ہورہے ہیں۔ نون لیگ کے سپورٹرز بہت خوش ہیں اور تحریکِ انصاف والے پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور کچھ لوگ عدلیہ پر بھی تنقید کررہے ہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ جب بھی الیکشن ٹریبیونل کسی امیدروار کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اس کی رکنیت کو معطل کرتا ہے تو آئین کے تحت اس امیدوار کے پاس حق ہوتا ہے کہ وہ الیکشن ٹریبیونل کے کے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کرسکے۔ جیسا کہ نون لیگ نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کرے گی تو آج انھوں نے یہ اپیل دائر کی اور یہ عدالت کا نارمل طریقہ کار ہے کہ جیسے ہی کوئی امیداوار الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتا ہے تو عدالت اس کو بحال کردیتی ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک طرح کا سٹے آرڈر ہے۔ اب سپریم کورٹ آئینی طور پر اس بات کی پاپند ہے کہ وہ تیس دن کے دوران الیکشن ٹریبیونل کے اس فیصلے کا جائزہ لے گی اور پھر تیس دن بعد اپنا حتمی فیصلہ سنا دے گی کہ الیکشن ٹریبیونل کا فیصلہ درست تھا یا غلط۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو عدالتیں زیادہ تر الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا 
جاسکتا اس کے لیے ہمیں ٣٠ دن تک انتظار کرنا ہوگا
۔

نون لیگ ہمیشہ کی طرح اپنے ووٹرز کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے اور انہیں گمراہ کرتے ہوئے یہ پراپیگنڈہ کررہی ہے کہ جیسے سپریم کورٹ نے ایک ہی دن میں الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا ہے۔ نون لیگ کے سپورٹر بھی ہمیشہ کی طرح اس پراپیگنڈہ پر بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور بات یہ کہ تحریکِ انصاف کے امیدوار بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ تیس دن تک انتظار کرتے ہیں یا ریویو میں جاتے ہیں کیوں کہ وہ خود بہت بڑے قانون دان ہیں۔ اس دوران سعد رفیق وزارت کے مزے اُڑا سکتے ہیں اور قسمت نے مزید ان کا ساتھ دیا تو ہوسکتا ہے اسی ماہ کے دوران ان کے مزید پرائز بانڈز نکل آئیں کیوں کہ غیر یقینی صورتحال ہے کہ تیس دن بعد ان کی وزارت رہے گی یا نہیں اس لیے مزید پرائز بانڈز کے لیے جلدی جلدی ہاتھ پاؤں ماریں گے۔ امید ہے انہیں تیس دن کے دوران این اے ١٢٢ کا بھی فیصلہ آجائے گا جو یقینی طور پر تحریکِ انصاف کے حق میں ہوگا اور پھر اس فیصلے کا نفسیاتی اثر سعدرفیق کے تیس دن کے بعد آنے والے فیصلے پر بھی پڑے گا۔ اس لیے دونوں طرف کے لوگ جذباتی مت ہوں گیم ابھی آن ہے۔ (محمد تحسین)


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments