کوئی عزت ہوتی ہے،
کوئی وقار ہوتا ہے-
سب جانتے ہیں کہ کسی کی جانب انگلی کا اشارہ کر کے بات کرنا بھارت میں اور پاکستان کے کچھ علاقوں(بالخصوص کراچی) میں کس قدر معیوب اور تکلیف دہ سمجھا جاتا ہے-
لیکن ہمارے حکمران سر بازار رسوا ہونے کو بھی تیار ہیں-
کیونکہ مودی پاکستان جو آرها ہے-
ہمیں مودی کے پاکستان آنے کی کوئی دلچسپی نہیں-
1997-98 میں جب واجپائی بس کے ذریعے پاکستان آیا تها- پٹواریوں کو (أسوقت میں بھی پٹواری تها) اپنی غزل سناتا اور اپنے "عاشق" سے گلے ملتا لاہور آیا-
تقریر میں "معشوق" اپنے عاشق کی آواز کی تعریف بھی کرتا رها جو ہاٹ لائن پر اسکو گانے بهی سناتا تها- (ویسے معشوق کا بڑا حوصلہ تها)
"معشوق" نے عاشق کو دغا دیا اور بھارت جاتے ہی اگلے دن عوامی اور اپوزیشن کے شدید دباؤ میں آکر پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک قرار دے دیا-
کشمیر کو بھارت کا "اٹوٹ انگ " کہا اور پاکستان کو اپنی حد میں رہنے کا کہہ دیا-
جواب میں "عاشق" بہت پریشان ہوا اور أسوقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو بھارت روانہ کیا-
"سرتاج" کے استقبال کو بھارتی وزیر خارجہ "مصروفیت" کی وجہ سے نہ آیا- ایئرپورٹ پر چند ڈی سی لیول کے ایئرپورٹ حکام نے ایک پاکستانی وزیرخارجە کا "استقبال" کیا-
"عاشق" کا "سرتاج" بھی بھارت جاکر انکے آگے بچھ کیا-
سجدہ تعظیمی کے بعد عرض کیا، "حضور والا ہم تو آپ پر جان چهڑکنے کو تیار ہیں-"
"عاشق" کے اس رویئے کی وجہ سے "معشوق" مزید نالاں نظر آیا اور اس بوٹ سے خوف کا اظہار کیا، جس بوٹ کی ضربوں سے "معشوق" کا کسی بھی جگہ پر اپنی "تشریف" رکھنا مشکل ہوگیا تها-
جب "عاشق" نے اس بوٹ میں چھید ڈالنے کی ناکام کوشش کی تو "بےچارہ" اسی بوٹ تلے کچلا گیا-
"عاشق" کے بوٹ تلے کچلے جانے پر کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا-
جب "معشوق" سے پوچھا گیا تو اس نے ایک ہی جواب دیا،"ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں-"
اب پهر سے وہی منظر وہی ملک وہی "عاشق" لیکن "معشوق" پہلے کی نسبت زیادہ تیکھا ہے-
"عاشق" کو اسوقت سے ڈرنا چاہیے جب وہ کسی بوٹ کے نیچے آکر کچلا گیا- تو یہ نیا اور نسبتا تیکھا معشوق یہ مندرجہ بالا فقرہ تک کہنا گوارا نہیں کرے گا-
اے "عاشق" نا مراد!
کوئی عزت ہوتی ہے
کوئی وقار ہوتا ہے -
♤ #عمریات ♤
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments