استنبول یونیورسٹی شعبہء اردو کی جانب سے
ایک روزہ سیمنار بعنوان'' محمد اقبال''
۹ نومبر ۲۰۱۵ء
رپورٹ: ڈاکٹر محمد راشد
استنبول یونیورسٹی،شعبہ اردو اور شرقیات انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ترکی میں اردو صدی کی تقریبات کے سلسلے میں اور یوم اقبال کے حوالے سے ٩ نومبر ٢٠١٥ء کو استنبول یونیورسٹی میں ایک روزہ سیمنار بعنوان'' محمد اقبال'' کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار صاحب نے کی۔ ترکی میں اردو کے صد سالہ تاریخی سمپوزیم کے بعد پروفیسر خلیل طوقار کا یہ دوسرا اہم اور کامیاب پروگرام تھا۔ اس تقریب میں جہاں استنبول یونیورسٹی کے اساتذہ شریک تھے وہیں دوسرے شعبہ جات کے اساتذہ نے بھی اس میں شرکت کی۔اس موقع پر اردو ارو دیگر شعبوں کے طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پروگرام کی شروعات پروفیسر ڈاکٹر جلال صوئیدان کے افتتاحی کلمات سے ہوئی جس میں انہوں نے اقبال کی حیات،شخصیات و خدمات پر ایک مختصر مگر جامع لیکچر دیا، اس کے بعد ڈاکٹر آرزو چفت سورین نے ''اقبال اور ترک'' کے عنوان سے تفصیلی گفتگو پیش کی، اس موقع پر راقم الحروف نے ''اقبال کے فلسفیانہ عشق پر مولانا رومی کے اثرات'' کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔ ان کے علاوہ پی ۔ایچ۔ڈی کی طالبہ خدیجہ گورگون نے اقبال کی زندگی پراور اونورقلیچ ایر نے اقبال کی ادبی خدمات پر اپنے مقالے پیش کئے۔
جہاں ایک طرف استنبول یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنے اپنے خیالات کو پیش کیا وہیں اس شعبہ کے طلبا و طالبات نے اس تقریب کو چار چاند لگا دیے۔طالبہ حمیرا نے اقبال کی مشہور نظم ''لب پر آتی ہے دعا'' پڑھی اردو زبان کے ایک اور طالب علم عبداللہ نے علامہ اقبال کی نظم ''شاہین'' کو اپنے اچھے انداز میں پیش کیا۔ان کے علاوہ مریم اور دینیسا نامی طالبات نے اقبال کی نظم کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پہلے اردو اور بعد میں ان نظموں کا ترکی ترجمہ بھی پڑھا۔
تقریب کے آخر میں پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار صاحب نے استنبول یونیورسٹی میں اردو زبان کے صد سالہ بین الاقوامی سمپوزیم کو کامیاب بنانے میں جن طلبہ و طالبات نے پورا وقت محنت کی ا ور مہمانوں کی مدد کی تھی ان کو اسناد پیش کی گئیں۔اس موقع پر ایک سلائیڈ کی نمائش بھی کی گئی۔ اس تقریب کی نظامت اردو شعبہ کی طالبہ محترمہ فاطمہ نے بہت ہی خوش اسلوبی سے کی۔اس طرح یہ تقریب بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنے اختتام کو پہنچی۔
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments