Wednesday, December 9, 2015

چترال میں توانائی کا بحران اور صوبائی حکومت کی چشم پوشی By Sardar Yasin Khan

chitral main tawanai ka buhran by sardar yasin khan


سابقہ شیڈو اور موجودہ کے پی کے ہائیڈل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت چلنے والا اور چترال کےتقریباً 50 فیصد حصے کو بجلی فراہم کرنے والا بجلی گھر ریشن ہائیڈل پاور پروجیکٹ جو کہ 3 ماہ قبل سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ خیبر پختون خوا حکومت کی توجہ کا منتظر ھے۔۔

 سردیاں آ نہیں رہیں بلکہ آ چکی ہیں اور چترال کو عوام اس سردی میں ٹھٹھر کر مرے جا رہے ہیں کیوں کہ  جنگلات کی کٹائی پر پاپندی ہے، لکڑی جو کہ چترال میں ایندھن کا واحد آسان ترین ذریعہ ھے اس پابندی کی وجہ سے میسر نہیں اور اس کے بعد بجلی ہے جو انہیں اس ہائیڈل پاور پراجیکٹ سے ملتی تھی۔

 یہ پاور ہاؤس 3 ماہ قبل آنے والے تباہ کن سیلاب کی نذر ہوگیا تھا۔ یہ صوبائی حکومت کے زیر کنٹرول ادارے شیڈو کا پروجیکٹ ہے۔ سیلاب سے قبل بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہاتھا۔ اس کی مثال دی جاتی تھی۔ مگر اب متعلقہ محکمے حکومتی دباو نہ ھونے کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو نظر انداز کر رھا ھے اور یہ گزشتہ 3 مہینے سے جوں کا توں پڑا ھے، اس کی بحالی تو درکنار منصوبہ بندی بھی ابھی تک نہیں کی گئی۔ اس سے بڑا المیہ تحصیل دروش میں قائم شیڈو کے شیشی پاور ہاؤس کو درپیش ہے۔ بڑی دھوم دھام سے پیسہ پانی کی طرح بہا کر اس منصوبے کا آغاز کیا گیا اور نہایت کامیابی کے ساتھ بروقت اس کی تکمیل بھی ہوگئی۔ بجلی کی ترسیل بھی شروع ہوگئی۔ خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہ ریشن پاور ہاؤس کو بھی مات دے گا۔ مگر دو چار ماہ میں ہی اس کا نظام بری طرح بیٹھ گیا۔ پتا چلا کہ پاور ہاؤس کو آپریٹ کرنے کے لیے نا تجربہ کار عملہ لگادیا گیا تھا، یہ اسی کی کارستانی ہے۔ اب اس کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ جوں کا توں پڑا ھے۔ مشینری برباد ہورہی ہے پڑے پڑے۔ کسی نے پلٹ کر انکوائری کرنے اور ذمے داروں سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ صوبائی حکومت اگر ذمے داروں کو سزائیں دے اور اھل لوگوں کو بھرتی کروائے تو قوم کا خزانہ بچ جانے کے ساتھ ساتھ علاقے کے عوام کو بجلی کی وافر سہولت بہ آسانی مل جائے گی۔ 

پی ٹی آئی کی نیک نامی الگ سے ہوگی۔ اس علاقے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کا امیدوار جے یو آئی کے امیدوار سے معمولی ووٹوں سے شکست کھاگیا تھا۔ بجلی کا مسئلہ حل ہونے پر یہ فرق پاٹا جاسکے گا، وگرنہ فرق بڑھ بھی سکتا ہے۔ 

ھم خیبر پختونخوا حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ  براہ کرم جلد از جلد اس مسئلے کی طرف توجہ فرمائیں اور جلد فنڈ دیکر بجلی گھروں کی بحالی کا کام شروع کروائیں۔۔۔ وگرنہ چترالی عوامی صوبائی حکومت کے خلاف سراپہ احتجاج ہونگے۔۔۔ 

سردار یاسین خان


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments