میں جب بھی ٹی وی لگاتا ہوں تو مجھے ہر ٹی وی چینل پر سیاسی جماعتوں کے نمائندے اپنے اپنے لیڈر کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اپنے لیڈر کی ہر صحیح غلط بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں. میں جب انھیں دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان بیچاروں کی نوکری کتنی مشکل ہے . ذرا تصور کیجیے کہ کسی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے انسان کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہوگا . اس کے لئے علم ، ذہانت ، مہارت اور محنت کے علاوہ " ڈھیٹ پن " بھی ضروری ہے . یہ لوگ اپنے لیڈر کی کہی ہوئی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کے سمندر میں اس قدر دور نکل جاتے ہیں کے انکو واپسی کہ راستہ نہیں ملتا . کیا ہی اچھا ہو کے یہ لوگ اس بات کو تسلیم کر لیں کے ان کے لیڈر بھی انسان ہیں اور انسان ہی غلطیاں کرتے ہیں . اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو بہتر یہی ہوتا ہے کے غلطی تسلیم کر لی جائے اور آیندہ اس سے بچا جائے. لیکن یہاں تو کچھ اور ہی معاملہ ہے . جو " نمائندہ " اپنے لیڈر کے جتنے بڑے " بلنڈر " کو ڈیفنڈ کرتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ "منجھا " ہوا سیاستدان مانا جاتا ہے.
ابھی لودھراں کا ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے . اسے لیکر یہ منجھے ہوئے سیاستدان ہر جائز ناجائز بات کو ڈیفنڈ کرینگے.
وزیر اعظم کا لودھراں کا دورہ ہو یا اربوں روپے کے پیکج ہوں . ہر چیز حق بجانب ثابت کر دی جاےگی . میرا تو ان "منجھے" ہوئے سیاستدانوں سے صرف اتنا سوال ہے کے آپ پلیز وزیر اعظم کے لودھراں کے پچھلے تمام دوروں کی تفصیل عوام کو دے دیں تاکہ عوام کو بھی اندازہ ہو سکے کے پاکستان کے درد مند وزیر اعظم نے اس سے پہلے لودھراں کے کتنے دورے کئے ہیں اور کتنے " پیکج " عوام پر نچھاور کے ہیں . ویسے میرا یہ ماننا ہے کہ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کے پاکستان میں خوشحالی آئے تو انہیں چاہیے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کریں کہ وہ باری باری قومی اسمبلی کی تمام نشستوں پر ضمنی انتخاب کروا دے . ہر ایک حلقے کے لئے " پیکج " بھی ہونگے اور وزیر اعظم پاکستان کو بھی موقع ملے گا کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیر بھی کر سکیں .
ذرا رینجرز کے اختیارات والے معاملے پر بھی نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کے شاید پاکستان وہ واحد ملک ہوگا جہاں کی حکومت اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ کہہ رہی ہوگی کہ آپ فلاں طرز کے مجرموں کو پکڑیں گے اور فلاں طرز کے مجرموں کو نہیں پکڑیں گے یا پکڑنے سے پہلے ہمیں ضرور بتایں گے. یہاں پر مجھے اسلم ریئسانی شدّت سے یاد آرہے ہیں . اگر ان سے اس معاملے پر رائے لی جاتی تو ان کا جواب یقیناً یہی ہوتا کہ
" مجرم مجرم ہوتا ہے چاہے وہ خود جرم کرے یا جرم کرنے والے کی مدد کرے "
سندھ حکومت کے رینجرز والے معاملے پر مجھے ایک کہانی یاد آرہی ہے . ایک گاؤں کے چودھری کے گھر بار بار چوری ہوتی ہے لیکن وہ کبھی بھی چور کو نہیں پکڑ سکا. آخر گاؤں کے ایک زمیندار کو خیال آتا ہے کے میرے گاؤں میں چوریاں ہو رہی ہیں اور میں خاموش بیٹھا ہوں . وہ ہمّت کر کے چور کو پکڑ لیتا ہے اور سارے گاؤں والے اسے شاباش دیتے ہیں . جب چور کو چودھری کے پاس لایا جاتا ہے تو چودھری اس کو آزاد کرنے کا حکم دے دیتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کے جب تک چور کو میں خود نہیں پکڑونگا میں اسے سزا نہیں دونگا . زمیندار اور باقی گاؤں والے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہوا . میری حکمرانوں سے درخواست ہے کے وہ چور کو پکڑنے دیں چاہے چور کو ِشیدا پکڑے یا مِیدا . ہمارا ٹارگٹ اس ملک سے دہشت گردی اور کرپشن کو ختم کرنا ہے اور وہ اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہم چوروں اور دہشت گردوں کو پکڑ کر انھیں سزایں دینگے . شکریہ
Zahid Rai
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments