Tuesday, May 24, 2016

کہانی بلی مرغی کی By وقاص خواج

Kahani billi murghi ki by waqas khawaja
بہت دیر پہلے کی بات ہے کہ ایک مولانا صاحب بڑے اہتمام سے قصائی سے پورے دو کلو کی مرغی تلوا کر لاۓ۔ کون سے مولانا

صاحب؟ ارے بھائی نام رہنے دیجئے. بس وہی مولانا صاحب جو ڈیزل تخلص کیا کرتے ہیں. اچھا تو ہم کیا کہہ رہے تھے؟ ہاں ہاں. مرغی اور وہ بھی پورے دو کلو کی.تو جناب سارا راستہ چیر پھاڑ کے خواب دیکھتے ابھی بمشکل گھر پہنچے ہی تھے کہ ہنگامی طور پر پھر باہر جانا پڑ گیا. چار و ناچار مرغی گھر والوں حوالے کی. ساتھ تلقین کی کہ اس کا خاص خیال رکھا جاۓ اور ہم کچھ دیر میں آتے ہیں. یہ کہہ کر مولانا باہر چل دیے 



اب پیچھے رہ گئی مرغی اور مولانا کے گھر والے. تو ان سے رہا نہ گیا. فٹ مرغی حلال کی، پکائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری مرغی چٹم 


اب مولانا نے واپس آتے ہی حکم دیا کہ مرغی ان کے سامنے پیش کی جاۓ. گھر والے پہلے تو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہے اور پھر کہا کہ جی مرغی تو بلی کھا گئی


اب مولانا اپنے گھر والوں کو نہ جانیں تو کون جانے. لہذا اپنا پچھلا تجربہ بروے کار لاتے ہوۓ جناب نے ایک ہی جست میں بلی قابو کر لی. لیکن اب کی بار سیدھی ترازو پر جا رکھی. اتفاق سے بلی کا وزن بھی پورے دو کلو نکل آیا 


بس وہ دن اور آج کا دن. مولانا اکثر راتوں کو اٹھ اٹھ جایا کرتے ہیں. اپنے آپ سے بڑبڑایا کرتے ہیں. گھر والوں سے اور جوگیوں کے پاس جا جا کر ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ

اگر وہ بلی تھی تو مرغی کہاں تھی اور اگر مرغی تھی تو بلی کہاں تھی 


تو یہ جو چند دہشت گرد بار بار بیچارے میاں صاحب سے کبھی سات تو کبھی ستر سوال پوچھتے ہیں، کیا نہیں جانتے کہ میاں صاحب تو آجکل خود راتوں کو اٹھ اٹھ جایا کرتے ہیں. دختر نیک اختر، شاہی مسخروں سے بار بار سوال کرتے ہیں کہ 


فلیٹ اگر دو ہزار چھ میں لیے تھے تو ترانوے میں کیا لیا تھا اور اگر ترانوے میں لیے تھے تو پھر دو ہزار چھ میں کیا لیا تھا 


جب تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے. اونچی اونچی بولنے لگتے ہیں کہ 


فلیٹ اگر جدہ والی مل بیچ کر لیے تھے تو دبئی والی مل بیچ کر کیا لیا تھا اور اگر دبئی والی مل بیچ کر لیے تھے تو جدہ والی مل بیچ کر کیا لیا تھا 


جب اس کا بھی جواب نہیں ملتا تو اچھلنے لگتے ہیں. ہزیان بکتے ہیں. خواجگان کی تھوتھنیاں نوچ نوچ کر کہتے ہیں کہ 


اگر ننانوے میں بچے کراۓ کے فلیٹ میں رہتے تھے تو ہمارے فلیٹوں کا کرایہ کدھر جاتا تھا اور اگر اپنے فلیٹوں میں رہتے تھے تو ہم کرایہ کس چیز کا دیتے تھے 


آگے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب اس سوال کا جواب بھی نہیں ملتا تو میاں صاحب پھر کیا کرتے ہوں گے 

دوستو، پانامہ لیکس کے بعد سوالات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے. معاملہ کبھی سات سے ہوتا ہوا ستر سوالات پر پہنچ جاتا ہے تو کبھی حکومت کی طرف سے ناکافی جوابات پر بحث ہوتی ہے. اس سارے شور شرابے میں میاں صاحب کی طرف سے پوچھے گئے تین سوال کچھ دب سے گئے ہیں. یہ سطور آپ کی توجہ ان کی جانب دلانے کو لکھی گئی ہیں. پر پہلے آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سننی پڑے گی. جی، کہانی بلی اور مرغی کی 



بہت دیر پہلے کی بات ہے کہ ایک مولانا صاحب بڑے اہتمام سے قصائی سے پورے دو کلو کی مرغی خرید لاۓ. کون سے مولانا صاحب؟ ارے بھائی نام رہنے دیجئے. بس وہی مولانا صاحب جو ڈیزل تخلص کیا کرتے ہیں. اچھا تو ہم کیا کہہ رہے تھے؟ ہاں. مرغی. اور وہ بھی پورے دو کلو کی. تو حضرت سارا راستہ چیر پھاڑ کے خواب دیکھتے ابھی بمشکل گھر پہنچے ہی تھے کہ ہنگامی طور پر پھر باہر جانا پڑ گیا. چار و ناچار مرغی گھر والوں حوالے کی. ساتھ تلقین کی کہ اس کا خاص خیال رکھا جاۓ. ہم واپسی پر اسے تناول کا شرف بخشتے ہیں. یہ کہہ کر مولانا باہر چل دیے 



اب پیچھے رہ گئی مرغی اور مولانا کے گھر والے. تو ان سے رہا نہ گیا. فٹ مرغی حلال کی، پکائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری مرغی چٹم 



ادھر مولانا نے واپس آتے ہی حکم دیا کہ مرغی ان کے سامنے پیش کی جاۓ. گھر والے پہلے تو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہے. اور پھرانہوں نے میسنی سی شکل بنا کر کہا کہ جی مرغی کو تو بلی کھا گئی



اب مولانا اپنے گھر والوں کو نہ جانیں تو کون جانے. لہذا اپنا پچھلا تجربہ بروے کار لاتے ہوۓ جناب نے ایک ہی جست میں بلی قابو کر لی. لیکن اب کی بار سیدھی ترازو پر جا رکھی. اتفاق سے بلی کا وزن بھی پورے دو کلو نکل آیا 



بس وہ دن اور آج کا دن. مولانا اکثر راتوں کو اٹھ جایا کرتے ہیں. اپنے آپ سے بڑبڑایا کرتے ہیں. گھر والوں سے اور جوگیوں کے پاس جا جا کر ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ



ترازو پر تلنے والی اگر بلی تھی تو مرغی کہاں تھی اور اگر مرغی تھی تو بلی کہاں تھی   



بات یہاں ختم نہیں ہوتی. آپ دیکھیے کہ یہ جو چند دہشت گرد بار بار بیچارے میاں صاحب سے کبھی سات تو کبھی ستر سوال پوچھتے ہیں، کیا نہیں جانتے کہ میاں صاحب تو آجکل خود راتوں کو اٹھ جایا کرتے ہیں. دختر نیک اختر اور شاہی مسخروں سے بار بار سوال کرتے ہیں کہ 



فلیٹ اگر دو ہزار چھ میں لیے تھے تو ترانوے میں کیا لیا تھا اور اگر ترانوے میں لیے تھے تو پھر دو ہزار چھ میں کیا لیا تھا 



جب تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے. اونچی اونچی بولنے لگتے ہیں کہ 



فلیٹ اگر جدہ والی مل بیچ کر لیے تھے تو دبئی والی مل بیچ کر کیا لیا تھا اور اگر دبئی والی مل بیچ کر لیے تھے تو جدہ والی مل بیچ کر کیا لیا تھا 



جب اس کا بھی جواب نہیں ملتا تو اچھلنے لگتے ہیں. ہزیان کہتے ہیں. خواجگان کی تھوتھنیاں نوچ نوچ کر گویا ہوتے ہیں کہ 



اگر ننانوے میں بچے کراۓ کے فلیٹ میں رہتے تھے تو ہمارے فلیٹوں کا کرایہ کدھر جاتا تھا اور اگر اپنے فلیٹوں میں رہتے تھے تو ہم کرایہ کس چیز کا دیتے تھے 



آگے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب اس سوال کا جواب بھی نہیں ملتا تو میاں صاحب پھر کیا کرتے ہوں گے 



بہر حال تحریک انصاف والوں سے گزارش ہے کہ میاں صاحب سے وہ سوال نہ پوچھیں جن کا جواب وہ خود تلاش کرتے پھرتے ہیں. آخر کو وہ ملک کے جمہوری وزیر اعظم ہیں. کوئی شرم ہوتی ہے. کوئی حیا ہوتی ہے



مصنف کے بارے ::

وقاص خواجہ کمپیوٹر سائنسز کے طالب علم ہیں. کچھ سال صنعتی شعبے میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد آجکل آئر لینڈ کی ایک یونیورسٹی میں اسی شعبے سے منسلک تحقیق سے وابستہ ہیں 

گرافکس::

اس مضمون کے لۓ گرافکس افتخار احمد خان نے تیار کیے جو پی ٹی آئ سوشل میڈ یا ٹیم کے ممبر اور سنٹرل کریٹو ٹیم میں شامل ہیں۔


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments