Tuesday, June 21, 2016

ہمارا مسلۂ تعلیمی نظام By Jamshed Ali

hamara masla taleemi nizam by jamshed ali
اصطلاحی معنوں میں تعلیم سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہینی، جسمانی، اخلاقی، تخلیقی، تہذیبی، سماجی، نصابی تربیت اور دوسرے عوامل سکھائے جائیں جس سے وہ ایک بہتر انسان بن سکے اور اس کا وجود دنیا کے لئے فائدہ مند ہوں ۔ ڈگری اور معلومات حاصل کرنا تعلیم نہیں ، ہمارا تعلیمی  نظام ڈگری یافتہ تو بہت پیدا کررہا ہے پر تعلیم یافتہ نہیں ۔ یہ نظام شروع سے ہی گریڈ کی جنگ لڑنا سکھاتا ہے ،فیل  ہونے سے ڈراتا ہے ، صرف امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہونےکا حصول سکھاتا ہے، غوروفکر کی تربیت نہیں دیتا ۔ زندگی کا مقصد ڈگری اور نوکری بتاتا ہے ، یہی وجہ ہے اس سرزمین میں سائنسدان پیدا نہیں ہورہے ، اچھے انجینیر نہیں بن رہے نہ اچھے شہری نا اچھے انسان بن دہے ہیں ۔ 

سونے پر سہاگہ یہاں کے تین تعلیمی نظام ، انگلیش میڈیم جن پر پرائیوٹ گروپ آف چین "بیکن، سٹی، ایجوگیڑ  گرائمر وغیرہ" کی اجارہ داری ہے یہ امیر کے لئے تعلیمی نظام ہے ، غریب کے لئے حکومت کے پیلے اسکول جہاں تعلیم اور استادزہ شاز و نادر ہی پائے جاتے ہے . تیسرا نظام مولوی حضرات  کے ہاتھ میں ہے جو صرف قرآن کی تعلیم کو ہی علم سمجھتے ہیں اور  اسے دینی تعلیم کہتے ہیں جبکہ دین کے معنی نظام کے ہیں جس میں ساری دنیا آجاتی ہے ، قرآن میں جگہ جگہ غوروفکر کی دعوت دی گی ہے ،انسان ، پہاڑ، زمین ، آسمان  کی تخلیق کی مثالئیں دے کر غوروفکر کرنے کو کہا گیا ہے اس لئے سائنس بھی دینی تعلیم ہے۔

             ملک میں حکومتیں بدلتی ہے، اس کے ساتھ چہرے بدلتے ہیں ۔ نہیں بدلتا تو یہ تعلیمی نظام اور نہ ہی کسی حکومت نے آج تک تحیہ کیا اس کو بدلنے کا صرف عمران خان وہ واحد سیاسدان ہیں جنہوں نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی ، اگر ملک میں واقعی انقلاب لانا ہے تو اس تعلیمی نظام کو ختم کرنا ہوگا ، تعلیم عام کرنی ہوگی ، تعلیم سب کے لئے برابر کرنی ہوگی ، جیسکہ کے ( Article 25(Aہ  مطابق 5 سال سے 16 سال تک پاکستانیوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔ پر حکومت نے اس پر وسائل کی کمی کا رونا رو کر معزرت کرلی ہے!

           بڑے بڑے نام والے اسکول اور کالجز جھنوں نے تعلیم کو ایک انڈسڑی اور منافع بخش کاروبار بنادیا ہے ، جو فخرسے بتاتے ہیں ہے کہ ہمارے اسکول و کالج سے ہر سال پوزیشن آتی ہے، طالب علم A-1 اور A گریڈ میں پاس ہوتے ہیں، پر  کوئی یہ نہیں کوئی نہیں بتاتا  کہ ایک ڈیی-گریڈ والے طالب علم کو داخلہ دے کر اسے کامیاب انسان بنادیا گیا ہے،
 تعلیمی نظام ایسا ہو جو ناکام کو کامیاب بنادے، جینے کا ڈھنگ سکھادے، بدقسمتی سے ہمارے پاس ایک بھی ایسا نامور ادارہ  موجود  نہیں، اور ہے  بھی تو اپنی مدد آپ ایسا کررہے ہیں اور علم کو عبادت اور اہم فریضہ سمجھ کر آگے بڑھا رہے ہیں ۔ اللّٰہ نے دو پیشے خدمت کے لئے بنائے ، ایک علم کو پھیلانا اور دوسرا بیمارو کا علاج کرنا ، یہ مقدس کام اللّٰہ نے رسولوں اور پیغمبروں کے ذمہ سے بھی ادا کروایا ۔ پر بدقسمتی سے آج ان دونوں کاموں میں خدمت کی جگہ دولت نے لے لی ہے ۔

 تعلیم سے ہی اچھا معاشرہ جنم لیتا ہے ، جن معاشروں میں تعلیمی نظام تباہ ہوجاتا ہے وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں کیونکہ قابل استاد ، فرض شناس پولیس افسر ، دیانت دار تاجر ، عدل کرنے والا جج ، ایمندار سیاستدان اور ایک اچھا فرد یہ سب ایک اچھی درس گاہ ہی پیدا کرتی ہے ، اور انسان کی پہلی درس گاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے،بدقسمتی سے وہ بھی اپنی ذمہ داری سے غافل ہوتی جارہی ہے ، ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ والدین نے بچوں  کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری استاد پر چھوڑ دی ، مذہب کی ذمہ داری مولوی پر چھوڑ دی ، نشونما کی ذمہ داری Nestle پر  چھوڑدی ، قانون کی ذمہ داری وکیل پر چھوڑدی اور ملک کی ذمہ داری سیاستدانوں پر چھوڑدی ، آج کے والدین خود کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ۔ وہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے بجاے ان کےلئے جائداد بنانے میں فکر مند رہتے ہیں۔ اللّٰہ کے رسول محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ اپنی اولاد کو جو سب سے اچھا دے سکتے ہے وہ تعلیم و تربیت ہے" اس لئے والداین کو خاص طورپر ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو بہترین نشونما،تعلیم و تربیت دے۔ بچے کو تین چار سال کی عمر میں ہی اسکول کے حوالے نہ کردے،یہ ایسا ہے کے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا کر اپنا مستقبل غیروں کے حوالے کردیا ۔ اب وہ مخلص استاد نہیں رہے جو علم کو فرض اور عبادت سمجھتے تھے۔

              

 موجودہ حکومتیں ، سیاسی اور مذہبی پارٹیاں کھبی اس تعلیمی نظام کو نہیں بدلیں گی کیونکہ اگر یہ تعلیمی نظام ٹھیک ہوگیا تو لوگوں میں شعور آجائے گا، عوام صیح اور غلط کو سمجھ سکیں گے اور ان کی غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔ جس طرح مخیر حضرات سےچندہ  جمع کر کےمسجد بنائ جاتی ہے ،اسی طرح ہمہیں چندہ جمع کرکےایسے تعلیمی ادارے بنانے ہونگے جو مفت تعلیم دیں، جہاں سے پڑھ کر تعلیم یافتہ بنیں ، ڈگری یافتہ نہیں۔ جہاں طالب علم کو سوچ و فکر دی جائے، زندگی کا مقصد سمجھایا جائے، زندگی کا مقصد ڈگری ، نوکری اور شادی نہیں زندگی کا مقصد آپ کے وجود سے کسی کا نقصان نہ ہو۔ زندگی میں ایسا کام کیا جائے جس سے رہتی دنیا فیض حاصل کرے،

جیسے علامہ اقبال نے فرمایا،

               زندگی ہو میری پروانے کی صورت یارب

               علم کی شمع سےہو مجھ کو محبت یارب 

     آج کے نوجوان کو رزق کے پیچھے بھاگنے کے بجائے علم حاصل کرنےکے لئے کوشیش کرنی چاہیں۔ اللّٰہ نے انسان سےرزق کا وعدہ کیا ہے علم کا نہیں پر انسان کی ساری کوشیش اور دعائیں رزق کے لئے ہوتی ہیں ۔ قرآن میں اللّٰہ نے اپنے بندوں کو علم کے لئے دعا سکھائی جس کا ترجمہ،

         "اے اللّٰہ میرے علم میں اضافہ فرما"

مصنف کے بارے::

جمشید علی شیخ نے سندھ یونیورسٹی سے ایم بی کیا ہے۔ انہوں نے آن لائن گروسری کا منفرد کام ۲۰۱۱ میں پاکستان میں متعارف کیا اور اسی کاروبار سے منسلک ہیں۔ جمشید ۲۰۱۲ سے پی ٹی آئ کے ساتھ وابستہ ہیں، یہ سابق نائب صدر رہے ہیں (پی ٹی آئ) حیدرآباد، سندھ سے۔

گرافکس::

اس مضمون کے گرافکس افتخار احمد خان نے تیار کیے جو پی ٹی آئ سوشل میڈیا ٹیم کے ممبر اور سنڑیل کریٹو ٹیم میں ہیں۔ 


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments