اگر ہم آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کو مجموعی طور پر ملنے والے ووٹوں کی اعداد و شمار کا جائزہ لے لیں تو صورتحال بہت دلچسپ بن جاتی ہے، حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز گروپ کو کل چھ لاکھ نواسی ہزار ووٹ پڑے اور کل بتیس نشستوں پر انکی جیت ہوگئی جبکہ تحریک انصاف کو دوسرے نمبر پر ووٹ پڑے جسکی تعداد تین لاکھ تراسی ہزار ہے اور دو ہی سیٹوں پر انکی جیت ہوگئی،_
ان اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سآمنے آجاتی ہے کہ کشمیر میں تحریک انصاف دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے تحریک انصاف کی ووٹ بنک پیدا ہوگئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ تلخ سچائی بھی ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ تحریک انصاف کی نمائندگی ہر جگہ موجود ہے لیکن ووٹ بکھرے پڑے ہیں ذیلی سطح پر کوئی ایسے کارکنان اور رہمناؤں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے جو تحریک انصاف کی ووٹ بنک کو معنی خیز جیت میں تبدیل کریں،..
کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ نون سے آدھے ووٹ تحریک انصاف کو پڑے ہیں لیکن سیٹوں کی تعداد محض دو ہے جو کہ کم ازکم آدھے یعنی سولہ ہونی چاہئے تھی، اتنے زیادہ ووٹ بنک کے باوجود اتنی کم سیٹوں پر جیتنے سے چند باتیں سامنے آجاتی ہیں وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے وہ رہنما جو ان انتخابات میں انتخاب لڑتے ہیں وہ فیلڈ میں کارکن پر محنت سے زیادہ عمران خان کے جلسوں پر انحصار کر بیٹھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نمائندوں کو وہی ووٹ پڑتا ہے جو ووٹر براہ راست عمران سے متاثر ہوا ہو، یعنی انتخابات میں کھڑے ہونے والے نمائندے گلی کوچوں کی سیاست اور ووٹر کو اپنے حق میں ووٹ دینے کیلئے رغبت دلانے، میل ملاپ اور کم کوشش کرتے ہیں جسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ تحریک انصاف کو مجموعی طور پر تو ووٹ کافی زیادہ پڑ جاتے ہیں لیکن وہی ووٹ معنی خیز جیت یعنی زیادہ سیٹوں کی جیت میں کارآمد ثابت نہیں ہوجاتے، اس وجہ سے تحریک انصاف کے کافی سارے ووٹ ایک قسم ضائع ہوجاتے ہیں،..
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بذات خود میں اور ایک عام انصافی فیلڈ میں محنت کی بجائے عمران کی محنت پر گرہ لگاکر بیٹھ جاتے ہیں جو کہ انتہائی برا اور نقصان دینے والا رجحان ہے، جبکہ مقابلے میں ہماری جو جماعت ہے باوجود اسکے کہ انکی اعلی قیادت سے لوگ بیزار ہیں اور انکی حقیقت سب کے سامنے ہیں کو ووٹ پڑتے ہیں اور انکی سیٹیں بھی زیادہ نکلتی ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ نون کی اعلی قیادت کو ووٹ نہیں پڑے ہیں بلکہ انکی ذیلی قیادت انکے کارکن کی فیلڈ میں محنت اور مستعدی کو ووٹ پڑے ہیں جبکہ اسکے برعکس تحریک انصاف کو جو ووٹ پڑے ہیں وہ براہ راست عمران خان کی محنت سے پڑے ہیں تحریک انصاف کا کارکن یا تو غیر تربیت یافتہ ہے سیاسی داؤ پیچ کھیلنے کا ماہر نہیں یا وہ اس آس پر انتخابات لڑتا ہے کہ عمران خان انکے لئے جلسے بھی کرتے رہینگے اور گھر گھر جاکر ہر ووٹر کو ووٹ کرنے پر آمادہ بھی کرینگے،..
یہی حال گذشتہ عام انتخابات میں بھی ہوا تھا تحریک انصاف کو مجموعے طور پر پورے پاکستان کے ہر حلقے میں نمائندگی تو مل گئی اور تحریک انصاف ہی حقیقی معنوں میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرنے والی وفاقی جماعت بن گئی لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی مجموعی ووٹ بنک پیپلزپارٹی سے بہت زیادہ ہونے کے باوجود انکی سیٹوں کی تعداد پیپلزپارٹی سے کم رہی، جسکی وجہ سے اپوزیشن لیڈر ان ہاؤس پیپلزپارٹی کی قسمت بن گئی تھی،.
تحریک انصاف کے ہر کارکن، انتخابات لڑنے والے نمائندوں اور قومی سطح کی قیادت کو آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج سے سیکھنے کی بہت ضرورت ہے تاکہ ائندہ کے لئے اتنے زیادہ ووٹ بنک کو معنی خیز جیت میں تبدیل کیا جاسکے، عام کارکن کو یہ بات ذہن نشین کرنا چاہئے کہ عمران خان قومی سطح کی سیاست کرے گا، ملکی سطح پر جماعت کی پالیسیز، رجحانات، مقاصد اور ترجیحات کی ترویج و توضیح کرے گا جبکہ عام کارکن کو ذیلی سطح کی قیادت عام ووٹر سے میل جول بڑھانا ہوگا اور جماعت کی ترجیحات سے آگاہ کرنا ہوگا..
مصنف کے بارے::
راشد حمزه سوات یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن پڑھ رہے ہیں، تحریک انصاف کیساتھ دو ہزار تیرہ سے وابستہ ہیں، زیادہ تر سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں-
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments