پختونخوا حکومت وہ پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے حقیقت میں پختونخوا کو دوسرے صوبوں کے لئے ماڈل صوبہ بنانے اور مروجہ نظام کو تبدیل کرنے کے لئے کمر ہمت کس لی ہے اس مروجہ نظام کا حاصل یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دو طبقات کوجنم دینے اور اس میں واضح فرق روا رکھنے کے لئے غریب اورعام آدمی کےاستحصال کرنے کے علاوہ ایک چھوٹے اور مختصر طبقے کو نوازنے کے لئے سب کچھ کیا،__
ایسے نظام کو پختونخوا حکومت کے لئے یکسر تبدیل کرنا اس کی جگہ نئے سرے سے عام آدمی کیلئے قابل قبول اور ایسے خوشنما نظام کی بنیاد ڈالنا جس کا حاصل سہولتیں اور آسانیاں ہوں، جو عوام میں کسی خاص طبقے کے لحاظ کئے بغیر بلا تفریق و امتیاز تقسیم ہوں کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں تھا، لیکن جب نیت ہو یقین ہو اور کچھ کرنے جذبہ ہو تو کچھ ناممکن نہیں رہتا عمران خان اور پختونخوا حکومت نے مل کر تبدیلی کا وعدہ پورا کرکے پختونخوا حکومت کے ہر شعبے میں ایسے زبردست نظام کی بنیاد ڈال دی ہے جسکی مثال ماضی میں ملنا ممکن نہیں ہیں_
پختونخوا حکومت کو دوسرے صوبائی حکومتوں پر فوقیت اس لئے بھی حاصل ہے کہ اس نے اپنی پوری توجہ نظام کی تبدیلی پر مرکوز کر رکھی ہے، عمران کی خواہش کے مطابق پختونخوا حکومت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ عام آدمی ریاست کے کاموں میں پوری طرح مشغول ہونے کے ساتھ ساتھ فعال شہری بن جائے جس کی نظر حکومت اور اداروں کی ہر حرکت قیام اور سرگرمی پر گڑی ہو، یہ بلکل نئی اور صحت مند سوچ ہے اس کے ذریعے ہی عوام کی شعوری سطح بلند ہوکر انفرادی کی بجائے اجتماعیت کے رویے پروان چڑھ جائنگے،__
یوں تو پختونخوا حکومت نے نئے اصلاحات لانے اور اداروں کو عام آدمی کے سامنے جوابدہ بنانے کیلئے سینکڑوں نئے قوانین بنا دیئے ہیں لیکن یہاں میں نمونے کے طور پر تین کمیشنز اور نئے بلدیاتی نظام کا تذکرہ کروں گا:-
احتساب کمیشن بدعنوانی کے خاتمے اور احتساب کا عمل یقینی بنانے کیلئے کسی بھی صوبائی حکومت کا بنایا گیا پہلا ادارہ ہے، احتساب کمیشن کے ذریعے پختونخوا حکومت عام آدمی کو اپیل بھی کرتا ہے اور آفرز بھی دیتا ہے کہ کہیں پر بھی بدعنوانی اور رشوت ستانی کا کوئی واقعہ ہوجائے تو خبر اور اطلاع دینے والے کو انعام سے نوازا جائیگا، صرف یہی نہیں حکومت اس سلسلے میں عام آدمی کی آگاہی اور اسکو انکی زمہ داری کا احساس دلانے کے لئے بھرپور آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے۔
دوسرا زبردست ادارہ معلومات تک رسائی کے قوانین بنانا اور ساتھ ہی کمیشن تشکیل دینا ہے، اس ادارے کا براہ راست عام آدمی سے تعلق ہے، یہ ادارہ عام آدمی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمام حکومتی ادارے انکے اپنے آثاثے ہیں، اور ہر ادارہ آپ کے سامنے جوابدہ ہے، اس ادارے کے ذریعے کوئی بھی شخص حکومتی اداروں، منصوبوں، قوانین اور تقرریوں سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات گھر بیٹھے چند منٹوں میں حاصل کرسکتے ہیں۔
تیسرا ادارہ پبلک سیفٹی کمیشن ہے، یہ کمیشن در اصل پولیس انتظامیہ اور عام آدمی میں تعلقات مضبوط بنانے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے، تاکہ پولیس اور عام آدمی مل کر باہمی اعتماد کی فضا ہموار کرکے علاقے کو جرائم سے پاک صاف کیا جاسکے، اس نظام کے ذریعے ضلعی سطح پر بھی ایک کمیشن تشکیل دیا جائیگا جس کے سامنے پولیس جوابدہ ہو گی، اس کمیشن میں اعلی ریٹائرڈ افسران کے علاوہ عام ادمی کو بھی نمائندگی دی جائیگی، یہ کمیشن ضلعی کونسل کے ساتھ ملکر پولیس اور عام آدمی کے تعلقات مثالی بنانے کی کوشش کرے گا، ڈی پی او سال میں دو مرتبہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کرے گا، یہ ادارہ ضلع کونسل کے ساتھ مل کر ڈی پی او تبدیل کرنے کا بھی مختار ہوگا ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے.
بلدیات کا ادارہ.... پختونخوا کا موجودہ بلدیاتی نظام پختونخوا حکومت کی تبدیلی کی طرف سب سے بڑا قدم ہے، اس نظام کے ذریعے گاؤں کی سطح پر قیادتیں پیدا ہونگیں، اس نظام کے ذریعے ترقیاتی فنڈز گاؤں کی سطح پر تقسیم ہونگیں، اس نظام کی سب سے اچھی بات گاؤں کی اسمبلی کا اپنا بجٹ خود تیار کرنا، خود ہی اپنے ترجیخات کا تعین کرنے کے اختیار کا ہونا ہے، اس نظام حکومت کے ذریعے گاؤں کا نمائندہ تمام حکومتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا جس کے نتیجے میں ادارے مکمل زمینی انداز سے عام ادمی کی خواہش اور ضرورت کو مدنظر رکھ کر چلائے جائنگے، اگرچہ موجودہ بلدیاتی حکومت اور بلدیاتی نمائندوں کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مشکلات ختم هو جائیگی اور آنے والے وقتوں میں یہی نظام حکومت حقیقی تبدیلی کی بنیاد بن جائیگا۔
مصنف کے بارے ::
راشد حمزه سوات یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن پڑھ رہے ہیں، تحریک انصاف کیساتھ دو ہزار تیرہ سے وابستہ ہیں، زیادہ تر سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں-
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments