جناب اچکزئی صاحب۔
پختونوں کی محبت میں تاریخ ادھوری نا کریں اور ادھوری تاریخ کو بھی مسخ نا کریں۔اگر آپ پختون ہیں اور پختونوں کے ہمدرد صرف اقتدار طاقت عہدے مال و دولت کیلے نہیں ہیں اور واقعی نیک نیتی سے پختونوں کی محبت میں گھلے جارہے ہیں تو پھر ہمت کریں اور تاریخ کو درست بیان کریں اور اعلان کریں۔
جناب اچکزئی صاحب۔
بقول آپ کے پختون دریائے سندھ تک رہتے ہیں تو پختون اس کے مالک ہیں۔ آگے چلیں پختونوں نے ٹیکسلا پر بھی حکومت کی ہے۔ اس پر بھی دعوی کریں۔ لاہور تو صدیوں تک افغانوں کے زیر نگین رہا۔ ہمت ہے تو لاہور کا بھی اعلان کریں۔ آگے چلیں دہلی بارے تو سب جانتے ہیں۔ کوئی پختون جنگجو دہلی سے پہلا نہیں رکتا تھا۔ اگر اصل پختون ہیں اور پختون سے محبت ہے تو دہلی پر پختونوں کا دعوی کریں۔
جناب اچکزئی صاحب۔
آپ افغانیوں کے نام پر جو نیا چورن بیچنا چاہتے ہیں اس پر آپ سے دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ آپ کو افغان مہاجرین کے نام پر خیبر پختون خواہ ہی کیوں یاد آیا بلوچستان کیوں نہیں۔ جہاں آپ برسوں سے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ جہاں آپ سے پہلے آپ کے والد عبدالصمد اچکزئی افغانی چورن بیچ کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔ اب جہاں آپ کا پورا خاندان سسرالیوں سمیت پارلیمنٹ اور اعلی عہدوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ جہاں آپ افغانوں کی خیبر پختونخواہ سے زیادہ اچھی مہمان نوازی کرسکتے ہیں۔ کہیں یہ آپ کے آقاؤں کی ہدایات تو نہیں جو آپ کو ڈالروں میں پال رہے ہیں۔ آپ اور آپ کے آباؤاجداد کی پاکستان دشمنی تو زبان زدعام تھی ہی اب غداری تک پہنچ گئی ہے۔ کیا موجودہ بیان بازی ڈالر دینے والے آقاؤں کا نمک حلال کرنا کا موقع ہے یا اقتدار میں حصہ دینے والے کا اشارہ۔
جناب اچکزئی صاحب۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہورہا تھا۔ کابل کے افغانوں نے صرف ڈیورنڈ لائن کو ہی تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ ڈیورنڈ لائن سے دریائے سندھ تک والے افغانوں کو انگریزوں کی غلامی میں دینے کا معاہدہ کیا تھا۔ انہیں بے یارو مددگار چھوڑ کر اپنے لئے آزاد کابل کا معاہدہ کیا تھا۔ صرف معاہدہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ تاریخ گواہ ہے۔ انگریزوں سے کثیر سرمایہ اور مراعات بھی حاصل کی تھیں۔ یہ پختون روایات اور افغان قوم سے غداری تھی کہ اپنی آزادی کیلے دوسرے بھائی کو غلامی میں دے دو۔ آج انہی مفاد پرست افغانوں کی محبت میں آپ کو یہ پختون یاد آگئے۔ تاریخ گواہ ہے اس وقت تو کابل والوں نے بڑے فائدے کا سودا کیا تھا۔ مگر جیسا بھی ہے ڈیورنڈ لائن کے اس طرف والے افغان دوسروں سے بہت بہتر حالت میں ہیں۔
جناب اچکزئی صاحب۔
کیا تاریخ اس بات کی گواہ نہیں کہ آپ کے والد عبدالصمد اچکزئی نے مسلم لیگ کے خلاف کانگریس کا ساتھ دیا تھا۔ وہ بلوچستان کے پہلے کانگریسی تھے۔ جن کا قبلہ گاندھی تھے۔ انہیں بلوچی گاندھی کا خطاب ملا تھا۔ انکا ہر قدم قائداعظم کے خلاف اور کانگریس کے حق میں اٹھتا تھا۔ آپ کے والد محترم نے آزاد پاکستان کی بجائے متحدہ سیکولر ہندستان کے حق میں تحریک چلائی تھی۔ جب کانگریس سے مطلوبہ فائدہ حاصل نا ہوا تو غیرملکی آقاؤں کے اشارے پر پختون خواہ نیشنل پارٹی بنائی۔ کیا آپ بھول گئے جب آزادی کے بعد حکومت پاکستان نے آپ کے والد کو پاکستان سے غداری کے جرم میں جیل کی سزا دی تھی۔ جس افغان محبت کا نیا چورن آپ بیچنا چاہتے ہیں ان سے تو آپ اور آپ کے اباؤاجداد نے قدم قدم پر غداری کی ہے۔
جناب اچکزئی صاحب۔
کیا آپ وہ تاریخ بھول گئے جب آپ کے والد نے 1970 میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہارنے کے بعد صوبائی الیکشن جیتنے کیلے قومی و لسانی عصبیت کو ابھارا۔ لوگوں سے قوم و زبان کے نام پر قسمیں لی گئی۔ الیکشن جیتنے کے بعد آپ کے والد کو قوم سے کیے گئے وعدے بھول گئے تو اپنے ہے ایک بندے نے قوم سے غداری پر آپ کے والد کو قتل کردیا تھا۔ افغان صدر نجیب اللہ سے آپ کی دوستی کون نہیں جانتا۔ اور نجیب اللہ کی پاکستان دشمنی تو سب جانتے ہیں۔ پنجاب والے شائد نا جانتے ہوں مگر پورے بلوچستان کو علم ہے۔ آپ کو زریعہ معاش سمگلنگ ہے۔ سمگلروں کے پشت پناہی آپ کا خاندانی کاروبار ہے۔ آج بھی جب افغانستان سے سمگلنگ کی اشیاء کوئٹہ لانی ہوتی ہیں۔ آپ کوئٹہ میں جلسہ رکھ لیتے ہیں۔ پھر پشین ژوب قلعہ سیف اللہ قلعہ عبداللہ اور چمن سے سینکڑوں بسیں سمگلنگ کے مال سے بھری روانہ ہوتی ہیں۔ اوپر پارٹی کا جھنڈا ہوتا ہے چھت پر چند لوگ نعرے لگارہے ہوتے ہیں اور اندر مال ہوتا ہے۔ اور یہ مال کوئٹہ کی مارکیٹوں میں آرام سے پہنچ جاتا ہے۔ کسے یاد نہیں جب زیارت مین قائداعظم کی رہائش گاہ کو جلایا گیا تو آپ نے وضاحتی بیان دیا تھا۔ یہ قائداعظم کی رہائش پر حملہ پاکستان پر حملہ نہیں بلکہ انگریزوں کی نشانی کو جلایا گیا ہے۔ اور یہ ایک عام سی بات ہے۔
جناب اچکزئی صاحب۔
تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ نجیب اللہ کی حکومت میں چمن جہاں کی طاقت ہے اس سے ملحقہ افغان علاقے سپن بولدک میں آپ کے قوم پرست عصمت اللہ اچکزئی نے اغوا برائے تاوان کا ایک مرکز قائم کیا ہوا تھا جسے قرار گاہ کہا جاتا تھا۔ بلوچستان سے لوگوں کو اغوا کرکے وہاں بھیجا رکھا جاتا تھا۔ پھر اچکزئی خاندان ہی تاوان کی رقم کے معاملات طے کروا کے مغوی کو رہائی دلواتے تھے۔ جب تک نجیب اللہ افغانستان میں حکمران رہا۔ سرحد کے دونوں طرف اچکزئی خاندان کا اغوا برائے تاوان کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہا۔
جناب اچکزئی صاحب۔
کیا آپ تاریخ کا وہ سبق بھی بھول گئے جب دسمبر 1979 میں افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رُخ کیا تو اکثریت نے آپ کے بلوچستان کی بجائے خیبرپختون خواہ کا ترجیح دی۔ کیونکہ عام افغان جانتا تھا آپ اور آپ کا خاندان افغان قوم کا غدار اور اپنے مفادات کا دوست ہے۔ وہ جانتے تھے آپ کی افغان محبت صرف اپنے خاندان کے اقتدار اور اپنے پیٹ بھرنے تک محدود ہے۔ افغان مہاجرین سے آپ کی رشتہ داری صرف ڈالر تک محدود ہے۔ آپ نے تو ان افغان مہاجرین سے بھی پیسے کھائے جو بلوچستان میں آباد ہوئے اور پھر ان کی آباد کاری کے نام پر اقوام متحدہ سے بھی ڈالر بٹورے۔ آپ تو آج تک مہاجرین کے سب سے بڑے ایجنٹ کہلاتے ہیں۔ پورے افغانستان میں یہ بات مشہور ہے کہ جو افغانی پشین چمن قلعہ عبداللہ میں مستقل رہائش اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس کا پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے کیلے آپ نے نرخ مقرر کررکھے ہیں۔ اور خاندان کے دور پار کے رشتہ دار بروکری کا کردار ادا کرتے ہیں۔
جناب اچکزئی صاحب۔
آج جس افغانی کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانا ہوتا ہے وہ چند ڈالروں کے عوض آپ تک رسائی پالیتا ہے۔ حقائق بتا رہے ہیں کوئٹہ چمن میں ہزاروں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ آپ کے براہ راست حکم پر جاری کیے گئے ہیں۔ آپ نے افغان خاندان کو افغانستان سے بلوچستان لانا اور یہاں مستقل آباد کروانے کا علیحدہ سے پیکج رکھا ہوا ہے۔ نادرا کے اندر تحقیقات اور ضرب عضب کے تحت پکڑے گئے دہشتگردوں سے ہونے والے انکشافات آپ کی موجودہ بے چینی کا سبب ہیں۔ مہاجرین کے نام جاسوس ایجنٹ اور دہشتگرد جو آباد کیے گئے تھے ان کی اشارے آپ تک پہنچ گئے ہیں۔ فوج کے دباؤ پر حکومت نے بھی آپ پر سے ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آپ کا حالیہ بیان آپ کا اقرار جرم بننے والا ہے۔ آپ نے بیان تو غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے اور حکومت پاکستان سے دباؤ کم کرنے کیلے دیا تھا مگر کر دو صورت میں یہ آپ کو پھنسا گیا ہے۔ آپ کو عوام میں بھی بےنقاب کرگیا ہے۔ قصہ مختصر آپ کی کہانی ختم ہونے کے قریب ہے۔
جناب اچکزئی صاحب۔
جاتے جاتے آپ کی افغان قوم اے محبت کا عملی ثبوت بھی دے دوں کہ نعرہ تو پختون کا محبت کا دعوی افغان کا مگر جب فائدہ اٹھانے کا وقت آئے تو سب سے پہلے اپنا خاندان۔ آج آپ کا خاندان بلوچستان کے ہر محکمے میں گھسا ہوا ہے۔ آپ خود وزیراعظم کے مشیر خاص لگے ہوئے ہیں۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی بھائی ہے۔ دوسرا بھائی حمید خان اچکزئی ایم پی اے ہے۔ تیسرا بھائی مجید خان اچکزئی بھی ایم پی اے ہے۔ بیوی کی بہن نسیمہ اچکزئی ایم این اے ہے۔ بیوی کی بھابی سپوژمئی اچکزئی ایم پی اے ہے۔ بیوی کا بھائی قاضی اچکزئی کوئٹہ آئرپورٹ کا مینیجر ہے۔ بیوی کا دوسرا بھائی حسن منظور ڈی آئی جی موٹر وے پولیس ہے۔ بیوی کا بھتیجا سالار خان لیکچرار ہے۔ بیوی کا کزن قاضی جمال رجسٹرار ہے۔
مصنف کے بارے::
محمد عبدہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے پہاڑ و تاریخی کھنڈرات ڈھونڈنا اور ان پر تحقیق کرنا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ پاکستان میں تبدیلی کی سیاست کیلے کوشاں ہیں۔ عرصہ دراز سے کوریا میں مقیم ہیں۔
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments