کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیخا سمجھوں
سب یہاں دوست ہی بیٹھے ہیں کسے کیا سمجھوں
تاریخ پاکستان سے آگاہ دوست بخوبی جانتے ہیں کہ ھزارہ کے عوام نے 47 میں پاکستان کے حق میں 100% ووٹ دیئے، جبکہ پشتون علاقہ سرحدی گاندھی غفار خان کے سحر میں گرفتار تھی۔ خان عبدالقیوم خان کا اللہ بھلا کرے انہوں نے ڈیرہ جات و محلقہ علاقوں کی نیم پشتون آبادی کو پاکستان کے حق میں قائل کر لیا تھا، اس طرح تھوڑے سے فرق سے ھم جیت گئے اور آج پاکستان کا حصہ ہیں۔
پاکستان بن گیا مگر اہل ھزارہ آج بھی سزا بھگت رھے ہیں کیونکہ صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) میں حکومت اکثر بیشتر پشتونوں ہی کی رہتی ھے جن کی ساری توجہ یقیناً اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی پہ ہی مرکوز رہتی ھے۔
ھزارہ پسماندہ تھا اور پسماندہ ھے اور بنیادی وجہ لسانی مخاصمت ھے انتظامی نہیں !! شائد یہی وجہ ھے کہ اے این پی کبھی بھی کوئی ایک سیٹ بھی ھزارہ سے نہ جیت سکی۔
ھزارہ کی خوبصورت وادیوں میں بسے پرامن لوگ آج بھی اگر اپنی پسماندگی پہ خاموش ہیں تو وجہ صرف نسلی و لسانی تعصب سے پرہیز ھے _ کیونکہ صوبے میں حکومت چاہے جس پارٹی کی بھی ھو (قومی پارٹی ھو یا صوبائی پارٹی) اختیارات اٹک کے اس پار ہی رھتے ہیں اور وسائل بھی !!
موجودہ صوبائی حکومت بھی قومی پارٹی 'پاکستان تحریک انصاف ' کی ھے لیکن کیا کریں پرویز خٹک کو اٹک پُل سے اسطرف مڑ کر دیکھنا گوارہ نہیں جبکہ عمران خان سیاحت و ھوٹلنگ کی صنعت کے لئے کئی ایک اقدامات کی طرف متوجہ کروا چکا، مگر عملاً ابھی تک کچھ بھی نہیں ھو سکا !! پن بجلی کا کوئی قابل زکر منصوبہ زیر غور و تعمیر نہیں، نہ کوئی شاہراہ !! اکثر قومی و صوبائی محمکموں کے تحت بنی سڑکیں کھنڈرات کا نظارا پیش کرتی ہیں، اس حال میں بھی سڑکیں پہ ٹریفک کا یہ حال ھے کہ دس پندرہ کلومیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ھوتا ھے۔ لیکن مجال ھے #پرویز_خٹک حکومت کے کان پہ جوں بھی رینگے !!
چلتے چلتے میاں نواش ریف کا زکر بھی کرتا جاوں کہ جدہ روابگی سے پہلے نواش ریف میرے آبائی قومی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن اور پاکستان کے وزیراعظم تھے، اس سے پہلے بے نظیر کے دور حکومت میں اسی حلقے سے ایم این اے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے، اس دوران انکی صوبے میں حکومت بھی رہی مگر میاں نواش ریف تب بھی آج کی طرح ریوڑیاں اپنوں میں ہی بانٹتے رھے، ھزارہ والوں کو بس سہانے خواب ہی دکھائے گئے جیسے وہ آج بھی سارے پاکستان کو دکھا رھے ہیں جبکہ عملاً انکا کردار 0/0 ہی ھے۔
اللہ کا شکر ھے کہ پاکستان فوج کے ایبٹ آباد میں مراکز قائم ھونے کی وجہ پرائیوٹ سکولوں و یونیورسٹیوں سے ھم مستفید ھو گئے اور اسی وجہ سے اہلیان ھزارہ کی اکثریت تعلیم یافتہ ھے اور یہی انکا زریعہ روزگار بھی ھے۔ ورنہ صنعت و زراعت ناپید ھونے کی وجہ سے بھوکے رہنا ہی مقدر ٹھہرتا !!
سجیکوٹ آبشار پاکستان کا ایک مشہور سیاحتی مقام ھے، سُنا ھے وزیر سیاحت یہاں کی سیر کر کے گئے ہیں اور کچھ وعدے بھی کئے کہ اس آبشار پہ سیاحوں کی آسانی و آسودگی کے لئے پارک تعمیر کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ مگر تاحال وہ ایک سیاسی بیان و نعرہ ہی ھے۔ گلیات میں جانا عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ھے کیونکہ نہ پبلک پارک ہیں نہ سڑکیں مگر عوام کا رش اسقدر کہ انسانوں کا جنگل ہر طرف نظر آتا ھے، مگر لوگ گلیات نہ جائیں تو کہاں جائیں ؟؟
آخری بات خان صاحب کے لئے ____ خان صاحب !! بلدیاتی نظام سے لوگ خوش نظر آ رہے ہیں، بہت بہت مبارک ھو آپ کو ___ لیکن جناب اس نظام کی کامیابی مربوط و مضوبط محکمہ کے زریعے ہی ممکن ھے لیکن تاحال خیبر پی کے میں محکمہ بلدیات کے پاس اس نظام کو چلانے کے لئے افراد ہی نہیں ہیں اور اس قدر بھیانک حالت ھے کہ مجھے ڈر ھے کہ یہ نظام اپنے بوجھ تلے ہی دب کر تباہ نہ ھو جائے۔ میرے والد صاحب محکمہ بلدیات میں ضلعی سپروائزر ہیں اس لئے اندر کے حالت سے بخوبی واقف ھوں اور حقیقت آپکے گوش گزار کر رھا ھوں اور درخواست بھی کرتا ھوں کہ خیبر پی کے پہ کچھ عرصہ توجہ دیں کہ یہی ھماری کامیابی کی دلیل بھی ھو گا اور ضمانت بھی (انشاء اللہ) !!
محمد آصف سلیم
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments