جیسا که آپ جانتے هیں که گزشته چھ ماه سے پانامه لیکس کی تحقیقات کے لئے پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ ڈالتی رهی تھی اور کھبی ٹی او آرز اور کبھی پارلیمانی اجلاسوں میں قوم کو الجھاتی رهیں لیکن جب سے تحریک انصاف نے اپوزیشن سے اپنے راستے الگ کرکے سڑکوں پر اختجاج شروع کیا هے اور پانامه تحقیقات پر کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی سے صاف انکار کرتے هوئے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی هے تب سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ایک واضح تقسیم سامنے آئی هے ایک طرف وه لوگ هیں جن پر کرپشن کے شدید الزامات هیں اور یه الزامات بھی کسی اور نے نھیں یهی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر لگاتی آئی هیں اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے علاوه وه سیاسی جماعتیں ھیں جن کا دامن قدرے صاف هے. یا ان په بھی الزامات هیں لیکن وه خود احتساب کے لئے پیش کرچکی هیں اور ھر قیمت پر احتساب چاھتی هیں لیکن ایک طبقه اور بھی ایسا موجود هے جن کی طرف بھت کم لوگوں کا دھیان جاتا هے جس کی وجه شاید یه هے که اس طبقے سے مسلم لیگ ن کو براه راست مقابلے کا سامنا نھیں کرنا پڑتا. جس کی وجه سے حکومتی توپوں کا رح دوسری طرف هے یا حکومت اس طبقے سے لڑائی کرنے کی پوزیشن میں نھیں.
میرا مطلب پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور اس کیساتھ متعلقه لوگ هیں. میں نے گزشته کچھ دنوں سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا بغور مشاھده کیا جس میں مجھے ایک واضح تبدیلی نظر آئی اگر اس سے پهلے کے پروگراموں کو دیکھاجائے تو ٹی وی اینکرز اور تجزیه نگاروں کی آرا متوازن رھی هے لیکن اس وقت تمام ٹی وی اینکرز اور تجزیه کار اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کے حق میں نظر آرهے هیں. جبکه سول سوسائٹی کے تمام شعبه ھائے حیات کے لوگ جن کا حکومت سے براه راست مفادات وابسطه نھیں وه لوگ بھی مجھے اپوزیشن کی صف میں کھڑے نظر آتے هیں. اور بڑی مشکل سے کوئی ایک آدھ آدمی اس طرح پیدا کیا جاسکتا هے جو اپوزیشن جماعتوں کی صف سے باھر کھڑا نظر آئیگا. اس لئے میں مسلم لیگ ن اور پیپل پارٹی کے ان ورکرز سے مخاطب هونا چاھتا هوں جو ھر قیمت پر حکومت کا دفاع کرنے پر تلے هوئے هیں. که عمران خان تو حکومت کے خلاف هے هی لیکن کیا ان تمام لوگوں کی مسلم لیگ سے دشمنی هے جو احتساب کے حق میں بولتے نظر آرهے هیں. آپ لوگوں کو سوچنا چاھئے که یه کیسے ممکن هے که اگر مسلم لیگ ن کے بانی نوازشریف په لگائے جانے والے الزامات غلط هیں یا بقول حکومتی وزراء میاں صاحب اپنے موقف پر حق بجانب هے تو یه بتایا جائے که تمام شعبه ھائے حیات کے لوگ نوازشریف کی مخالفت کیوں کررهے هیں. حکومتی وزراء ترجمان اور قریبی لوگ یه پروپگنڈه کررهے هیں که عمران خان نوازشریف کو کمزور کرکے وزیراعظم بننا چاھتے هیں لیکن کیا سراج الحق بھی وزیراعظم بننے کے لئے حکومت کے خلاف کھڑے هیں. اگر اعجاز الحق ایک سیٹ کے ساتھ حکومت کے اتحادی هیں اور فوائد حاصل کررهے هیں تو شیخ رشید کو بھی حکومت کا اتحادی نھیں هونا چاھئے تھا. کیا حکومت کے خلاف تحریک چلاکر شیخ رشید بھی وزیراعظم بننا چاھتے هیں. اسی طرح پاکستان عوامی تحریک کی تو شاید پارٹی رجسٹریشن بھی ابھی مکمل نھیں هے تو کیا وه بھی وزیراعظم بننا چاھتے هیں. ایک اور سوچنے کی بات یه بھی هے که اگر حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے کوئی وزیر اعظم بن سکتا هے تو پیپل پارٹی کے نوجوان چئرمین تحریک احتساب کا حصه بن کر وزیر اعظم کیوں نھیں بننا چاھتے. لیکن چلو میں مان لیتا هوں که حکومت مخالف تحریک چلانے والے سب وزیر اعظم بننا چاھتے هیں لیکن کیا میڈیا اور تجزیه کار بھی حکومت مخالف تحریک چلانے والوں کے صف میں کھڑے هوکر وزیر اعظم بن سکتے هیں. اور وزیر اعظم بن کر بھی ان کو وه فائدے نھیں مل سکیں گے جتنے فائدے ان کو حکومت کے حق میں ایک آرٹیکل لکھنے سے مل سکتے هیں تو وه کیوں حکومت کے مخالف کھڑے هیں. جانے پھچانے اور اچھی شھرت کے حامل تمام اینکرز کا جھکاؤ سو فی صد اپوزیشن کی طرف هے. اور اگر میں یه بھی مان لوں که یه لوگ عمران خان کو وزیراعظم بنا کر وه فائدے حاصل کریں گے جو نوازشریف سے انھیں نھیں مل رهے تو کیا یه لوگ عقل کے اتنے اندھے هیں که ان کو خیبر پختونخواه کی صوبائی حکومت نظر نھیں آرهی جنھوں نے آج تک اشتھارات په انتھائی کم پیسه خرچ کیا هے اس لئے میری درخواست هے ان جیالوں اور شیروں سے جو نوازشریف کو کسی بھی قیمت په احتساب سے دور رکھنا چاھتے هیں که وه اپنے ارد گرد ان لوگوں کی آراء بھی معلوم کرے جو مسلم لیگ کے پکے شیر اور پیپل پارٹی کے پکے جیالے نھیں. جو سول سوسائٹی کے لوگ هیں جو صرف پاکستانی هیں اور کسی سیاسی جماعت کے فل ٹائم ورکرز نھیں تو امید هے که ان کو اس سوال کا جواب مل جائے گا که نوازشریف کا احتساب کیوں ضروری هے
زاھد جدون
مدینه منوره سعودی عرب
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments