Saturday, October 29, 2016

کیا عمران خان واقعی وزیراعظم بننا چاھتے هیں?? By Zahid Jadoon

Kya imran khan waqai wazeer e azam banna chahty hain by zahid jadoon

جیسا که آپ جانتے هیں که گزشته چھ ماه سے پانامه لیکس کی تحقیقات کے لئے پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ ڈالتی رهی تھی اور کھبی ٹی او آرز اور کبھی پارلیمانی اجلاسوں میں قوم کو الجھاتی رهیں لیکن جب سے تحریک انصاف نے اپوزیشن سے اپنے راستے الگ کرکے سڑکوں پر اختجاج شروع کیا هے اور پانامه تحقیقات پر کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی سے صاف انکار کرتے هوئے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی هے تب سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ایک واضح تقسیم سامنے آئی هے ایک طرف وه لوگ هیں جن پر کرپشن کے شدید الزامات هیں اور یه الزامات بھی کسی اور نے نھیں یهی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر لگاتی آئی هیں اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے علاوه وه سیاسی جماعتیں ھیں جن کا دامن قدرے صاف هے. یا ان په بھی الزامات هیں لیکن وه خود احتساب کے لئے پیش کرچکی هیں اور ھر قیمت پر احتساب چاھتی هیں لیکن ایک طبقه اور بھی ایسا موجود هے جن کی طرف بھت کم لوگوں کا دھیان جاتا هے جس کی وجه شاید یه هے که اس طبقے سے مسلم لیگ ن کو براه راست مقابلے کا سامنا نھیں کرنا پڑتا. جس کی وجه سے حکومتی توپوں کا رح دوسری طرف هے یا حکومت اس طبقے سے لڑائی کرنے کی پوزیشن میں نھیں.

میرا مطلب پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور اس کیساتھ متعلقه لوگ هیں. میں نے گزشته کچھ دنوں سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا بغور مشاھده کیا جس میں مجھے ایک واضح تبدیلی نظر آئی اگر اس سے پهلے کے پروگراموں کو دیکھاجائے تو ٹی وی اینکرز اور تجزیه نگاروں کی آرا متوازن رھی هے لیکن اس وقت تمام ٹی وی اینکرز اور تجزیه کار اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کے حق میں نظر آرهے هیں. جبکه سول سوسائٹی کے تمام شعبه ھائے حیات کے لوگ جن کا حکومت سے براه راست مفادات وابسطه نھیں وه لوگ بھی مجھے اپوزیشن کی صف میں کھڑے نظر آتے هیں. اور بڑی مشکل سے کوئی ایک آدھ آدمی اس طرح پیدا کیا جاسکتا هے جو اپوزیشن جماعتوں کی صف سے باھر کھڑا نظر آئیگا. اس لئے میں مسلم لیگ ن اور پیپل پارٹی کے ان ورکرز سے مخاطب هونا چاھتا هوں جو ھر قیمت پر حکومت کا دفاع کرنے پر تلے هوئے هیں. که عمران خان تو حکومت کے خلاف هے هی لیکن کیا ان تمام لوگوں کی مسلم لیگ سے دشمنی هے جو احتساب کے حق میں بولتے نظر آرهے هیں. آپ لوگوں کو سوچنا چاھئے که یه کیسے ممکن هے که اگر مسلم لیگ ن کے بانی نوازشریف په لگائے جانے والے الزامات غلط هیں یا بقول حکومتی وزراء میاں صاحب اپنے موقف پر حق بجانب هے تو یه بتایا جائے که تمام شعبه ھائے حیات کے لوگ نوازشریف کی مخالفت کیوں کررهے هیں. حکومتی وزراء ترجمان اور قریبی لوگ یه پروپگنڈه کررهے هیں که عمران خان نوازشریف کو کمزور کرکے وزیراعظم بننا چاھتے هیں لیکن کیا سراج الحق بھی وزیراعظم بننے کے لئے حکومت کے خلاف کھڑے هیں. اگر اعجاز الحق ایک سیٹ کے ساتھ حکومت کے اتحادی هیں اور فوائد حاصل کررهے هیں تو شیخ رشید کو بھی حکومت کا اتحادی نھیں هونا چاھئے تھا. کیا حکومت کے خلاف تحریک چلاکر شیخ رشید بھی وزیراعظم بننا چاھتے هیں. اسی طرح پاکستان عوامی تحریک کی تو شاید پارٹی رجسٹریشن بھی ابھی مکمل نھیں هے تو کیا وه بھی وزیراعظم بننا چاھتے هیں. ایک اور سوچنے کی بات یه بھی هے که اگر حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے کوئی وزیر اعظم بن سکتا هے تو پیپل پارٹی کے نوجوان چئرمین تحریک احتساب کا حصه بن کر وزیر اعظم کیوں نھیں بننا چاھتے. لیکن چلو میں مان لیتا هوں که حکومت مخالف تحریک چلانے والے سب وزیر اعظم بننا چاھتے هیں لیکن کیا میڈیا اور تجزیه کار بھی حکومت مخالف تحریک چلانے والوں کے صف میں کھڑے هوکر وزیر اعظم بن سکتے هیں. اور وزیر اعظم بن کر بھی ان کو وه فائدے نھیں مل سکیں گے جتنے فائدے ان کو حکومت کے حق میں ایک آرٹیکل لکھنے سے مل سکتے هیں تو وه کیوں حکومت کے مخالف کھڑے هیں. جانے پھچانے اور اچھی شھرت کے حامل تمام اینکرز کا جھکاؤ سو فی صد اپوزیشن کی طرف هے. اور اگر میں یه بھی مان لوں که یه لوگ عمران خان کو وزیراعظم بنا کر وه فائدے حاصل کریں گے جو نوازشریف سے انھیں نھیں مل رهے تو کیا یه لوگ عقل کے اتنے اندھے هیں که ان کو خیبر پختونخواه کی صوبائی حکومت نظر نھیں آرهی جنھوں نے آج تک اشتھارات په انتھائی کم پیسه خرچ کیا هے اس لئے میری درخواست هے ان جیالوں اور شیروں سے جو نوازشریف کو کسی بھی قیمت په احتساب سے دور رکھنا چاھتے هیں که وه اپنے ارد گرد ان لوگوں کی آراء بھی معلوم کرے جو مسلم لیگ کے پکے شیر اور پیپل پارٹی کے پکے جیالے نھیں. جو سول سوسائٹی کے لوگ هیں جو صرف پاکستانی هیں اور کسی سیاسی جماعت کے فل ٹائم ورکرز نھیں تو امید هے که ان کو اس سوال کا جواب مل جائے گا که نوازشریف کا احتساب کیوں ضروری هے

زاھد جدون  

مدینه منوره سعودی عرب


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments