!!یہ آرٹیکل تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے کا ہے
میرے دو آرٹیکل پبلش ہوئے عمران خان
پر تو مجھے کئی لوگوں کے فون موصول ہوئے کہ عمران خان کیلئےآپ نے اتنا
زیادہ لکھ دیا ـ لیکن نہ تو اسکے پاس کوئی واضح منشور ہے اور نہ ہی کوئی
ایسی مضبوط ٹیم تو کیا وہ مذید پاکستان کیلئےمایوسی کے اسباب پیدا نہیں
کرے گا؟ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے پوچھا کہ کراچی کے حالات
اتنے خراب ہیں تو کیا کیا ہے عمران خان نے سوائے بہانہ بازیوں کے؟
جواب تو نیچے دے رہی ہوں لیکن ایک بات
کو واضح کر نا چاہتی ہوں میرا تعلق یہاں موجود کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں
ہے ـ اور نہ ہی انشاءاللہ کوئی سیاسی وابستگی کبھی بھی رکھنی ہے کسی سے ـ
کیونکہ پاکستان کی سیاست میں سوائے نمود و نمائش کے اور کوئی چیز نظر نہی
آئی اگر سیاست میں کوئی مقصد ہوتا تو آج جتنی شان ہمارے سیاسی لیڈران کی ہے
انکے گھروں انکی گاڑیوں کی ہے تو وہی شان اس بیچارے پاکستان کی بھی نظر آتی
ـ لیکن افسوس کہ میرا پاکستان دن بدن مرجھا رہا ہے اور لاغر ہو رہا ہے ـ
میری تحریروں کو شائد کئی ناقدین تجزیاتی عینک سے بھی چیک کرتے ہیں ـ تو
ایک بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ آج تک کچھ بھی لکھنے کیلیۓ ڈکٹیشن کا سہارا
نہی لیا ـ
میں ایک عام پاکستانی ہوں اور یہ
محسوس کرتی ہوں کہ وقت کٹھن ہے ہر پاکستانی کے پاس جو جو صلاحیت یا موقعہ
ہے وہ اس جگہ سے اپنی صلاحیت کا اظہار کرے اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دے ـ
قدرت نے میرے ہاتھ میں قلم دے دی ہے، مگر مجھے شائد اچھی تحریر کا تجربہ
نہیں ہے کئی خامیاں ہوں گی ـ لیکن جذبہ حب الوطنی بہت ہے اور اسی جذبے میں
ڈوبا ہوا ایک ایک حرف سچائی کے ساتھ تحریر کرتی ہوں ـ لہٰذا میری تحریر کو
کوئی بھی سیاسی پلیٹ فارم سے اپنے لئےتنقید یا طنز نہ سمجھا جائے ـ یہ بس
لکھا جاتا ہے کسی کے لیۓ نہیں کوتاہیوں کا ذکرآتا ہے، کیونکہ ان سیاسی
کوتاہیوں سے پاکستان ڈوب رہا ہے ـ اس وقت میری سوچ میرا تجزیہ زمینی حقائق
کو صرف عمران خان کی صورت پاکستان کی بقا میں دیکھ رہے ہیں، تو جب تک ضرورت
ہوئی عمران خان کیلیۓ یہ قلم چلے گا ـ عمران خان پاکستان کیلئے آخری روشن
دیا ہے ـ جو نجانے لاکھوں ماؤں کے بجھتے ہوئے دیے روشن کرنے آ رہا ہے ـ جو
موجودہ حالات میں مسکن دواؤں کے زیرِ اثر دماغوں کو سُن کر کے اندھیرے
کمروں میں زندہ لاشوں کی صورت شرمندگی سے منہ چھپائے مصنوعی نیند کا سہارا
لئے ہوئے مایوس پڑے ہیں ـ
ان ٹِمٹِماٹے دیوں کو پھر سے روشن
قندیل بنا کر پاکستان کے بام و در کو روشن کر کے انکی خوابیدہ صلاحیتوں کا
اجاگر کر کے ان سے وطن کی تعمیرِ نو کیلیۓ بہت کام لینا ہے ـ ایسا صرف ایک
ہی انسان کر سکتا ہے، جس کے یہ جانباز ہیں ، جس کے یہ سپاہی ہیں ، اور جس
کے یہ شاہین ہیں ـ جو انکی ذہنی طاقت اور صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہےـ انہی
کے سہارے ملک کو پھر سے بچانے نکلا ہے ـ اقبال کے کل کے شاہین عمران کے آج
کے سپاہی ہیں
عمران خان نے انقلابی سوچ کا آغاز
پاکستان سے کرنا ہے عام غریب انسان سےجس کا سب سے زیادہ استحصال ہو رہا ہے
ـ اور جیسے ہی یہ بھوکا مفلس ہمت میں آکے بہادر بن کے اس نظام کے خلاف کھڑا
ھو گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے عوامی اعتماد عمران خان کو بہت تیزی سے پاکستان
کیلیۓسماجی معاشی سیاسی تعلیمی حربی ترقی کی جانب بھی گامزن کر دے گا ـ اس
وقت پاکستان کے ہر شعبے میں جو تباہی نظر آرہی ہے وہ سرمایہ کاری کی عدم
فراہمی کی وجہ ہے ـ اور یہ رقوم کی فراہمی بے ایمان لوگوں کی لوٹ مار کی
داستانوں کے بعد دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے روک دی گئی ہےـ
لیکن اسکا خمیازہ پھر سے اسی دکھی اور بے بس عوام کو ہی برداشت کرنا پڑ رہا
ہے ـ ٹرینوں کی بندش اور سخت گرمی میں منتظر لاکھوں لوگ جو روزوں سے بھوکے
پیاسے بغیر بجلی کے پلیٹ فارمز پر پانی کی عدم دستیابی کے ساتھ کربلا کے
میدان میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ـ اس وقت جو پہیہ جام ہےـ وہ صرف سامنے
کھڑے کرپٹ لوگوں کی وجہ سے انجماد ہے ـ جیسے ہی یہ ہٹیں گے ایک مخلص
ایماندار انسان سامنے نظر آیا تو یہی ملک ہوگا اور اسکا ہی خزانہ ہو گا جس
کو عام لوگ سنبھالتے ہوئے اسکو ترقی کی شاہراہ پر چلائیں گے نہیں بلکہ
دوڑائیں گے ـ
عمران کے پاس آمدنی کے وسائل محدود
ہیں؟ یہ بھی ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیسے اسکے امیدوار ان پرانے
گھاگ مشاق دولتمندوں کے سامنے کھڑے ہو کر کامیاب ہو سکیں گے ان کا تو سیاسی
قد کاٹھ بھی مختصر اور جاگیر بھی نہی ہے ـ جبکہ پاکستان کی سیاست اب ہزاروں
لاکھوں کی نہی کروڑوں اربوں کی متقاضی ہے ـ یہی وجہ ہے کہ پرانے سیاستداں
اور انکی جماعتیں بظاہر پرسکون ہیں ـ کیونکہ وہ اپنے دولت کے انبار اور ان
سے لوگوں کی مجبوریوں کو خریدنے کا پرانا کامیاب فارمولہ اچھی طرح سے جانتے
ہیں جو دہائیوں سے پاکستان میں کامیاب ہو رہا ہے ـ لیکن اس بار یہی سادہ
لوح عوام اب شائد مقروض تو انہی کی ہو گی لیکن مستقبل کی غلامی سے نجات
حاصل کرنے کیلیۓ روشن دیے عمران خان کے نام پر ٹھپہ لگائے گی ـ
اس وقت دنیا کی گندی ترین سیاست
پاکستان میں کھیلی جا رہی ہے صرف اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے کبھی کسی ملک
کا نظام دیکھا ہے کہ باقی صوبے میں تو کمشنری نظام نافذ ہو، صوبے میں مگر
کراچی حیدر آباد میں بلدیاتی نظام ـ ؟
اب کیا یہ بھی عمران کی غلطی ہے؟
الطاف بھائی قتل عام کیسے رکوا سکتے
ہیں ، اگر دوسری جماعت کروا رہی ہو ـ یہ تو تبھی رک سکتےتھے جب ان کے قائد
کا حکم آئے تو پھر الطاف بھائی کس کا قائد نکلا؟
عمران خان کو آنا ہے ہر صورت اور یہ
بات اس ملک کے سیاست دان خود چاہتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ گناہوں کا گھڑا
اتنا بھر گیا، کہ پورا ملک ہی اس میں ڈبو دیا ـ اب ایک ایسے نام کی قیادت
کی ضرورت ہے، جو سچ میں قیادت ہو ٹوپی ڈرامہ نہ ہو اور نہ ہی نورا کشتی ہو
ایک ہی نام ہے عمران خان
ہزار مسائل کے کہ اسکے پاس ابھی منظم ٹیم نہی ہے، کوئی مؤثر لائحہ عمل نہی
ہے ـ کوئی ایسا وجود نہی جو عمران کے بعد کی قیادت کو سنبھالتا دکھائی دے ـ
ان تمام عوامل کے باوجود اگر پاکستان
کی گرتی ہوئی ساکھ کو کوئئ سہارا دے سکتا ہے ـ اور اس ملک کو کرائسسز کے اس
لامتناہی طوفان سے بحفاظت نکلا کر پار لگاسکتا ہے تو وہ بس ایک ہی نام ہے ـ
ایک اور بات کہیں میری لکھ کر محفوظ
کر لیں کہ عمران خان کے آتے ہی امریکہ کا ایک نیا چہرہ دیکھیں گے جو
پاکستان کو باوقار طریقے سے ہیلپ کرے گا،
بھیک نہی دے گا اور نہ ہی بھگو بھگو
کے جوتے مارے گا ـ یورپی یونین کا ساتھ دیکھ لینا ـ یورپی ممالک کا تعاون
دیکھ لینا ـ
بیرونِ ملک پاکستانیوں کا ایک بڑا
گروپ ہے بڑے بزنس میں ان سب کی پاکستان میں سرمایہ کاری دیکھنا کس قدر سرعت
اور برق رفتاری سے وہ عمران خان کی قیادت میں اپنا سرمایہ پاکستان میں لگا
کر نئے نئے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرتے ـ ابھی بھی سب کچھ موجود ہے لیکن
حکمرانوں پر اعتماد کا فقدان ہے ـ ان کے سامنے سے ہٹتے ہی سب دیکھیں گے
پاکستان کی اکانومی کیسے اوپر جاتی ہے ـ بجلی کے نئے اور جدید پلانٹ کی
تنصیب دیکھنا ـ اور سب سے بڑھ کر رائے عامہ کا اٹھا ہوا ٹوٹا ہوا اعتماد
دیکھنا کیسے بحال ھو گا ـ اور جب مرتی ہوئی مایوس قوم کا اعتماد بحال ہو گا
تعلیمی برابری ہو گی ، مساوی نوکریوں کی تقسیم ہو گی تو انشاءاللہ، ایک بار
پھر سے وہی پاکستان معرضِ وجود میں آئے گا جو کبھی ہمارے قائد کا خواب تھا
اس بار جو پاکستان بنے گا از سرِ نو
انشاءاللہ ان کو یہ حرف حرف ظلم کی داستانیں اب بار بار انکے بزرگ اپنی نئی
نسل کو پاکستان کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو کہانیوں کی صورت ضرور دہرائیں
گے ـ تاکہ یہ نئی نسل اس ملک کے دوبارہ ملنے پر اسکی قدر کر سکے ہماری طرح
نا قدری میں دوبارہ پاکستان کو پھر سے کھنڈرات میں تبدیل نہ کرے اور بہت
محتاط ہو کر اس ملک کے ذرائع کو استعمال کر سکیں اور حتی المقدور اسکی ترقی
میں خاطر خواہ کردار ادا کر سکیں ـ کیونکہ بار بار ملک بچائے نہیں جاتے اس
لئے پلیز سب لوگ سیاسی برادری کی اور ذاتی پسندیدگی سے باہر آکر صرف اپنے
سر پے ڈولتی ڈگمگاتی چھت کو مضبوط کرنے اور اسکو سلامت رکھنے کیلئے عمران
خان کو ووٹ دیں ـ بے شک آپ طاقتور لوگوں کے سامنے بہت کمزور ہیں لیکن ایک
بار تو ہمت کر کے اس قفس سے خود بھی اور آنیوالی نسلوں کو بھی آزاد تو
کروانا ہو گا ـ
انجام اس کے ہاتھ ہے ، آغاز دیکھ دیکھ
بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کر کے دیکھ
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments