پاکستان تحریک انصاف ایک نظریہ ایک سوچ کا نام ہے اس نظریہ کی جو بهی نفی کرے گا
رزلٹ غلط ہی آئےگا
میانوالی کا حلقہ این اے 71 ہو یا کینٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں ہارا گیا حلقہ جانچ پٹرتال پر پتا چلتا ہے کہ ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم شکست کا سبب بنی .
جنوبی پنجاب میں قیادت چاہے اس کا تعلق یوته سے ہو یا مدر ونگ سے پارٹی ورک پرسنل پرموشن اور سیلفیز تک محدود رہا ہے . تنظیمیں غیر فعال رہیں . ہمشہ گروپ پرموٹ ہوئے
چاہے ادهر بات میانوالی کی ہو یا راولپنڈی کی جہلم ہو یا سرگودہا بدترین نتائج اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پارٹی قیادت کو اس طرف سنجیدگی سے سوچنا ہوگا وگرنہ نتائج آنے والے بلدیات میں مزید اچهے نہ ہوں گے .
تحریک انصاف کا نظریہ ورکرز کی سوچ میں گهر کر چکا ہے . نئی قیادت پر اور نوجوان قیادت پر ورکرز اور ووٹرز کا اعتماد ہے
اگر ہماری اپنی ہی جماعت بهی اس نفی کرتی ہے تو ورکر کا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ ووٹ ایسے امیدوار کو دیا جائے جس کا نہ تو پارٹی کیلئے کوئئ ورک ہو اور نہ ہی دور دور تک وہ پارٹی کے منشور پر پورا اترتا ہو .
یہ ہی وجہ ہے کامیاب ہونے والوں میں کثیر تعداد آزاد امیدواران کی ہے .
پاکستان تحریک انصاف کا گراف کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں بلند ہوا ہے مگر راولپنڈی جیسے علاقہ میں جہاں تمام اعلی قیادت بیٹهی ہے ن لیگ کا کلین سویپ اور غیر منصفانہ ٹکٹوں کی تقسیم کا شور اعلی قیادت پر کئی سوالات اٹها رہا ہے .
اعلی قیادت کو ورکرز کی خاموش زبان کو سمجهنا ہوگا وگرنہ نتائج اس سے بهی سنگین نوعیت کے ہو سکتے ہیں .
یہاں ایک بار پهر کہوں گا کہ عمران خان کو اپنے حلقہ کو وقت دینے کی ضرورت ہے . ورکرز اور ووٹرز ان سے ملنے کے خواہش مند ہیں
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments