Sunday, April 26, 2015

ٹی آئی کا یوم تاسیس By Dr Nazeer Ahmad

pti ka youm e tasees by dr nazeer ahmad


تحریک پاکستان میں کلیدی اہمیت کے حامل لاہو ر شہرمیں 25اپریل 1996 کو معر ض وجود میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف آج اپنی عمر کے19سال مکمل کر رہی ہے جسے آئین پاکستان کی رو سے سن بلوغت تسلیم کیا جا تا ہے عمران خان کی قیادت میں لگایا جا نے والا پی ٹی آئی کا یہ نوخیز پودا زمانے کے تھپیڑوں اور گر م و سرد موسموں کے باوجودآج ایک شجرسایہ دار کا روپ دھار چکا ہے جس کی آبیاری کے لیے اعلیٰ انسانی اقدار کے وارث بے شمارپاکستانیوں نے اپنا کردارا دا کیا ہے 1996 میں تشکیل دی گئی سینٹرل ایگزیٹو کمیٹی نے دانائی اور حکمت کے مظہر پی ٹی آئی کے منشور کی 1999ئ میں منظور ی دی جس کی رو سے معاشرے میں انصا ف کی سستی اور بر وقت فراہمی ،مساویانہ بنیادوں پر معاشی مواقعوں کا حصول، آئین و قانون کی سر بلندی اور معاشرے کے پسے ہو ئے طبقات کو ملک کے دیگر ترقی یافتہ حلقوں کے برابر لانے جیسے ترقی پسند اور انقلابی اقدامات پی ٹی آئی کی ترجیحات قرار پائے۔ سماجی ترقی کے لیے انسانی وسائل کی کلیدی اہمیت سے بخوبی آگاہ عمران خان سیاسی سر گر میوں کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کے میدان میں بھی ہمہ وقت متحرک رہے تا کہ ایک باشعور سول سوسائٹی معرض وجود میں لائی جاسکے جو قوم کو آگے لے جانے کی صلاحیت سے مالا مال ہو لاہور میں شو کت خانم میموریل ہسپتال اور میانوالی میں اعلیٰ پائے کی جدید ترین تعلیمی در سگاہ "نمل"عمران خان کی اسی سوچ کے اعلیٰ شاہکار ہیں پی ٹی آئی کے سیاسی سفر میں 30اکتوبر 2012ئ کو لاہور میں منعقد ہو نے والا تحریک انصاف کا جلسہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو ا جب پاکستانی یوتھ آگے بڑھ کر تحریک انصاف کے قافلے سے وابستہ ہو گئی خصوصاً معاشرے کے وہ طبقات جو کبھی زندگی میں ووٹ دینے کے مکلف بھی نہیں تھے عمران خان کے ذاتی محاسن اور شخصی اوصاف سے متاثر ہو کر نیا پاکستان بنانے کے شریک سفر ہو گئے مشرقی روایات کے امین پاکستان میں خواتین ہمیشہ ایک محکوم طبقہ شمارہو تا ہے تا ہم یہ پہلا موقع ہے کہ مر دوں سے بھی بڑھ کر خواتین پی ٹی آئی کے لیے ہمہ تن پر جوش نظر آرہی ہیں ۔ لاہور کے مذکورہ جلسے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی پر واز ملکی سیاسی منظر نامے کی آفاقی سطحوں کو چھونے لگی اور ملک کے متعدددیگر شہروں میں منعقد ہو نے والے اس کے جلسوں نے پاکستان کے عام شہری کو تحریک انصاف کی طرف متوجہ کر نا شروع کر دیا جس کی عملی شکل گزشتہ قومی انتخابات میں قوم کے سامنے آئی جب کے پی کے میں پی ٹی آئی واحد اکثریتی سیاسی جماعت بن کر ابھری اور حکومت بنانے میں کامیاب ہو ئی جبکہ وفاق اور پنجاب میں بھی اس کی موثر موجودگی ایک حقیقت ثابتہ ہے تا ہم انتخابی نتائج چرائے جانے کے خلاف عمران خان کی شکایت پر حکومت اور متعلقہ اداروں نے کان نہ دھرے تو انہوں نے مزاحمت کا فیصلہ کر لیا جو وسط ستمبر 2014 میں اسلام آبا د میں سیاسی تاریخ کے طویل ترین دھر نے پر منتج ہوا جس کے دوران عمران خا ن نے ایک بیانیہ کی صورت میں حکومت وقت اور پیپلز پارٹی کو مک مکا اور باری باری کی سیاست کا عنوان دیا اور عام آدمی کی محرومیوں کو موضوع بنایا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ان کی آواز پہنچی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب چار سو عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے چر چے چھائے ہوئے تھے حکومت وقت عضو معطل تھی جبکہ کاروبار حکومت بے یقینی کی راہ پر گامزن تھادھر نے کے دوران پابند سلاسل رہنے والے مرزا عدیل بیگ جیسے بے شمار ور کرز نے اپنی قر بانیوں کی بدولت پی ٹی آئی کے مقاصد کو آگے بڑھایا تا ہم سانحہ پشاور کے بعد عمران خان نے قومی مفاد میں دھر نا ختم کر دیا اور ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت سے ملکر قومی لائحہ عمل تشکیل دینے میں بھر پور اور فیصلہ کن کردار ادا کیا حکومت ابتدا میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق تھی تا ہم بعد میں تسلیم شدہ مطالبات سے غیر اعلانیہ طور پر پیچھے ہٹنے لگی تو پی ٹی آئی نے دبائو بڑھا کر حکومتی حلقوں کو مذاکرات پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں جو ڈیشل کمیشن قائم ہو چکا ہے اور ان دنوں گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے کھلی سماعت کر رہا ہے جس کا حتمی نتیجہ مستقبل میں منعقد ہو نے والے قومی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرانے جیسے چلن کا راستہ روکنے کی صورت میں برآمد ہو گا جمہوریت کے استحکام ،جمہوری اقدار کے فروغ اور گزشتہ چار عشروں سے خوف کے عفریت میں محصور کرا چی کوآزادی کی دولت سے روشناس کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی طرف سے کرا چی کے حلقہ این اے 246کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے یقینا گزشتہ کئی سالوں سے کراچی پر حکمران ایم کیو ایم کو شکست سے دوچار کر نے کے لیے ایک لمبے وقت ،وسائل اور بھر پور تنظیم کی ضرورت ہے تا ہم عمران اسماعیل کی قیادت میں پی ٹی آئی نے کراچی میں ایم کیو ایم کے اہم ترین حلقے میں اس کے سامنے سینہ سپر ہو کر لوگوں کے ذہنوں پر مسلط پہرے کا فی حد تک ہٹا دیے ہیں جو بالآخر وفاق پاکستان اور قومی وحدت کے استحکام کا باعث بنیں گے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے یوم تاسیس کے حوالے سے چند روز قبل بہاولپور میں منعقدہ ڈویژنل کنونشن سے خطاب کر تے ہوئے پارٹی کے وائس چیئر مین مخدوم شا ہ محمودقریشی نے شر کائ کو عمران خان کا پیغام دیتے ہوے بجا طور پر کہا کہ تحریک انصاف آج ملک کی ایک ترقی پسند اور تمام طبقات خصوصاً یوتھ کی ہر دلعزیز سیاسی جماعت بن چکی ہے جو وطن عزیز کی ترقی کا ایک واضح منشور رکھتی ہے جمود کی بجائے تبدیلی پر یقین رکھنے والی پی ٹی آئی ایسا پاکستان بنانے کے لیے کوشاں ہے جہاں عا م پاکستانی سکھ کا سانس لے سکے اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے پر امید ہو اور قیادت کی صلاحیتوں پر 

اعتماد رکھتا ہو صرف اسی صورت میں ہی اقتصادی خوشحالی کا خواب شر مندہ 

تعبیر ہو سکتا ہے جو پی ٹی آئی کے منشور کا حاصل بھی ہے ۔ زندگی کی انیس 

بہاریں دیکھنے کے بعد آج پاکستان تحریک انصاف جس مقام پر کھڑی ہے وہاں تک 

لانے کے لیے عزم صمیم کے پیکراورجہد مسلسل کے پیر ہن میں ملبوس چیئر 

مین عمران خان کے علاوہ وائس چیئر مین مخدوم شاہ محمود قریشی ،سیکرٹری 

جنرل جہانگیر خان ترین ،شیریں مزاری ، فوزیہ قصوری ،سیف اللہ خان نیازی ،نعیم 

الحق خان ،پرویز خٹک ،اعجاز احمد چوہدری ،نور محمد خان بھابھہ،زبیر خان نیازی 

،فرخ حبیب اورڈاکٹر عارف علوی جیسے متعدد دیگر پی ٹی آئی کی کہکشاں کے 

ستارے اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں تا کہ پاکستان کی تعمیر کے لیے 

عام پاکستانی کی آنکھوں میں ایک عرصے سے بسنے والے خوابوں کی تعبیر کو 

ممکن بنایا جا سکے تا ہم سیاسی قوت ہو نے کے ناطے پاکستان تحریک انصاف 

کو ابھی بہت کچھ کر نا باقی ہے جس کے لیے سب سے اہم ضرورت پی ٹی آئی 

کے دامن سے وابستہ پارلیمانی اور تنظیمی حلقوں کے مابین فکر و نظر اور 

ترجیحات کا اشتراک ہے جسے قر بانی کے جذبے سے ہی رقم کیا جاسکتا ہے اور

آج کا یوم تاسیس پی ٹی آئی فیملی سے اسی قر بانی کا طلبگا ر ہے ۔


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments