Saturday, June 11, 2016

ڈالراں آلی چکری سرکار... (بجٹ 2016) By Dr Asghar Khan

Dallaran wali sarkar by Dr Asghar Khan

آنحضرت پیرِ لفاظی جناب محترم اسحاق ڈار (ڈالر) صاحب نے جس چابکدستی کے ساتھ "عرب" "کهرب" کرتا بجٹ پیش کیا، اسے دین محمد کے ڈهابے میں بیٹھا "شیدا ٹلی" سن  کے کچھ  پریشان سا ہو گیا. پہلے تو اسے ڈالر صاحب کی عرب کهرب کرتی تقریر سمجھ ہی نہیں آئی،  آیا یہ کوئی جزیرہ نما عرب کے"یا شیخ" کے بارے میں کوئی قصیدہ تها (بحکم وڈے پائی صاب) یا پهر کهرب(جو بقول مولوی یار محمد، بجلی کو کہتے ہیں) اب کے رہی سہی کهرب عرب کو سپلائی کی جائے گی؟...
"مر گئے لٹے گئے وے میاں صاب" کہتا ہوا  گھر بھاگا اور "بشیراں" جو نسبتاً زیادہ سیانی تھی کے آگے جیسے بجٹ کی نا سمجھی پہ رو پڑا. بشیراں بولی  گولی مار عرب کھرب کو، یہ بتا پتی سستی ہوئی؟  شیدا بولا نہیں... چینی سستی ہوئی؟ نہیں... دودھ سستا ہوا؟ نہیں..، بلکہ اے تے سب مہنگے ہو گے نے...  بشیراں بولی "فر صبح شام کی چائے کیسے پیئں گے شیدیا؟... شیدا تو جیسے چکرا گیا، چائے کے بغیر تو وہ اک قدم نہیں اٹھا سکتا "مر گئے لٹے گئے وے میاں صاب"... 
بشیراں بولی چل ناشتہ نہ سہی یہ بتا آٹا سستا ہوا؟ شیدا بولا نہیں... پکانے کا تیل سستا ہوا؟ نہیں... لکڑی سستی ہوئی؟ نہیں... دال سستی ہوئی؟ نہیں... مرچ ہلدی سستی ہوئی؟ نہیں... نمک سستا ہوا؟ نہیں... بلکے اے سارے تے مہنگے ہو گئے نے... "شیدیا" تے ہن دن تے رات دا کھانا وی نا ای سمجھ... 
"مر گئے لٹے گئے وے میاں صاب" شیدے کے دماغ میں اب جیسے عرب کهرب کرتی آوازیں اور اونچی ہو گئ ہوں... غصے کے مارے گهر سے چوہدری افضل کی کوٹھی کی طرف ایسے بھاگا جیسے یہ آوازیں وہاں سے آ رہی ہوں. چوہدری کے کہنے پہ گاؤں کے سب لوگوں نے ووٹ میاں صاب کے بندے کو ڈالے تھے جو ووٹوں کے بعد ایسا غائب ہوا جیسے "نتهو کمیار" کی کهوتی،  او وی چار سال سے نہیں ملی. 
چوہدری شیدے کو بجٹ کے اہم نکات سمجھانے لگ گیا. "دیکھ شیدیا میاں صاب ملک کے ہر شہر میں موٹر وے بنا رہے ہیں گے، یعنی لمبی لمبی سڑکیں، تے نیلی پیلی بسیں وی، ہور تے ہور سونی سونی گَڈیاں ہوں گی تے میٹرو وی تے لیپ ٹاپ وی... تے تے......." 
ابهی چوہدری کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ شیدا کھڑا ہو گیا اور بولا، "چوہدری صاب اے دسو، پتی سستی ہوئی؟ چوہدری بولا نہیں... چینی سستی ہوئی؟ نہیں... دودھ سستا ہوا؟ نہیں... جی چوہدری صاب اے تے سب مہنگے ہو گے نے، ہُن اے دسو صبح شام کی چائے کیسے پیئں گے ہم غریب لوک؟... 
شیدا  مزید بولا چلو ناشتہ نہ ہو نہ سی، چوہدری صاب اے دسو آٹا سستا ہوا؟ چوہدری بولا نہیں... پکانے کا تیل سستا ہوا؟ نہیں .... لکڑی سستی ہوئی؟ نہیں... دال سستی ہوئی؟ نہیں... مرچ ہلدی سستی ہوئی؟ نہیں... نمک سستا ہوا؟ نہیں... چوہدری صاب، اے سارے تے مہنگے ہو گے نے... لمبی لمبی سڑکیں تے رنگ برنگی بسیں دو وقت کی چائے تے دو وقت کی روٹی دے سکتی ہیں آرام تے سکھ دے نال؟.. چوہدری کی خاموشی اور جھکی نظر دیکھ کر شیدا سمجھ گیا کہ شریف اتنے شریف نہیں جتنے بنتے ہیں، اور ڈالراں آلی سرکار بہت چکری ہے.  چوہدری وی بس ناں کا چوہدری ہے اصل میں یہ بهی ہم جیسا ہے. جاتے جاتے مڑ کے اک بار چوہدری کی طرف دیکھ کہ شیدا بولا "چوہدری جی اگلی واری جد ہمارے محلے آو تے شیر لے کے نا آنا ، مارے جاو گئے قسمیں".. 
چوہدری نے اپنے ماتھے پہ ہتھیلی ماری اور بولا
"مر گئے لٹے گئے وے میاں صاب"

موجِ شہر کے سلسلے، انکے مزاج دیکھنا... 
گردان ہیں یہ ماہ و مہر، انکو بھی آج دیکھنا... 

گذرا ہر اک دور جو تھا وہ تغیرات کا... 
قاعدے وہ نہیں رہے، بدلے سماج دیکھنا... 

مدت سے چل رہے طریق کب تک نبھائیں... 
راہ نئ نئ نکال کر، رسم و رواج دیکھنا... 

کسان کی محنتوں کا پھل، وہ تو گیا لگان میں... 
دیکھ وڈیروے کا بھی ظلم، اسکا خراج دیکھنا... 

دفن ہوں سب سیاستیں، غرق ہوں ان کے راہنما... 
جن کی ہے حرص اور ہوس، تخت و تاج دیکھنا... 

مظلوم سر اٹھائے کبھی؟ رہی یہی کسک تا عمر ہمیں... 
ظلم کا کچھ تو علاج ہو؟ ہائے رے وہ علاج دیکھنا... 

مصنف کے بارے:: .



ڈاکٹر افضل خان نیورو سرجن ہیں، شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور قومی معاملات پر لکھتے ہیں۔ 

گرافکس::

اس مضمون کے گرافکس افتخار احمد خان نے تیار کیے جو پی ٹی آئ سوشل میڈیا ٹیم کے ممبر اور سنٹرل کریوٹیو ٹیم کے رکن ہیں۔


by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)

No comments:

Post a Comment

Thanks For Comments