چوہا درمیانی قامت اور لمبی دم والا ایک چھوٹا سا جانور ہے. مادہ کو چوہیا کہا جاتا ہے لیکن جو شہرت چوہے کے نصیب میں آئی وہ مادہ کا مقدر نہ بن سکی. مادہ کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے. اور نر کی پہچان کہ چہرے پر مونچھیں اور ناخن لمبے ہوتے ہیں. کان کچھ گولائی لیے اور دانت انتہائی تیز ہوتے ہیں. رنگ میں چوہا کالا، بھورا اور نسبتاً کم بھورا ہوتا ہے
اگرچہ کہ چوہا تاریخ میں وباؤں کا باعث رہا ہے، اس کی مفیدیت سے ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتا. سب سے پہلے تو یہ کہ اس کے سبب بہت سی بلیوں، کتوں، بھیڑیوں اور سانپوں کی زندگی چلتی رہتی ہے. دوسرا یہ کی بنیادی ذہانت اور بیشمار کمینگی رکھتا ہے. اسی لیے تجربہ گاہوں کے لیے بہت موزوں ہے
چوہا بہت نازک اندام جانور ہے. ہلکی سی چوٹ جان لیوا ثابت ہوتی ہے. بچ جائے تو ذہنی توازن بہرحال کھو بیٹھتا ہے. اگلی ٹانگیں پتلی اور مختصر ہوتی ہیں. پچھلی البتہ کچھ بڑی اور موٹی ہوتی ہیں. اس کا مختصر سا سینہ اس کی اگلی ٹانگوں کے درمیان ہوتا ہے. اگر پھلا کر پچھلی ٹانگوں پر چلے تو انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے
برطانیہ کا موزی کیڑوں سے بچاؤ کا ادارہ کہتا ہے کہ چوہوں کو آسان نہیں لینا چاہیے کہ بعض اوقات پانی میں بہت دیر ڈبکیاں لگا سکتا ہے. مشکل وقت آنے پر انتہائی باریک سوراخوں سے فرار ہو سکتا ہے. اس کے علاوہ بجلی کے تار اور پانی کے پائپ انتہائی تیزی سے کتر جاتا ہے لہذا اس کو پانی و بجلی سے دور رکھنا چاہیے
چوہے ایک لمبے عرصے سے بنی نوع انسان کے پالتو کے طور بھی رکھے جاتے رہے ہیں. حیرت انگیر بات یہ ہے کہ پالتو چوہا آوارہ چوہے سے جسامت میں کافی چھوٹا ہوتا ہے. شاید انسان پوری طرح سے اس کا حق نہیں ادا کر پاتے. بہرحال پالتو چوہا رکھنے کو پنجرہ بہترین جگہ ہے
چوہا زیادہ تر انسانوں کے قریب رہنا پسند کرتا ہے. اس لیے نالیوں، گھروں، دکانوں، دفتروں، بنکوں، ایوانوں غرض یہ کہ کہیں بھی ہو سکتا ہے. یاد رکھا جائے کہ چوہوں کی نظر انتہائی کمزور ہوتی ہے. اگر چوہوں کو یہ سہولت میسر ہوتی تو ہر چوہا عینک لگاۓ پھرتا
چوہوں کا خاصہ ہے کہ جس نئی جگہ پر جائیں، وہاں کی آب و ہوا اور ماحول پر بہت بری طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں. ایک عرصہ سے چوہے بحری جہازوں میں نت نئی جگہوں پر پہنچ پہنچ کر بربادی پھیلاتے رہے. چوہا الیکشن نہیں لڑتا. اگر لڑ لے تو ماحول خراب کرتا ہے
چوہا فطرت میں بہت بزدل جانور ہے. اپنے سے قوی کے ساتھ یا سامنے بیٹھا ہو تو اس کی گھگھی بندھ جاتی ہے. دفاع کے لیے انتہائی غیر موزوں ہے.
ماہرین اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اکثر اخلاق باختہ لطیفوں میں چوہے کا ذکر شیر کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے
بہرحال، چوہا آخر چوہا ہوتا ہے
مصنف کے بارے::
وقاص خواجہ کمپیوٹر سائنسز کے طالب علم ہیں. کچھ سال صنعتی شعبے میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد آجکل آئر لینڈ کی ایک یونیورسٹی میں اسی شعبے سے منسلک تحقیق سے وابستہ ہیں
گرافکس::
اس مضمون کے لۓ گرافکس افتخار احمد خان نے تیار کیے جو پی ٹی آئ سوشل میڈ یا ٹیم کے ممبر اور سنٹرل کریٹو ٹیم میں شامل ہیں۔
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments