ابھی دنیا کے سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں رپورٹ پڑھ رہا تھا بڑی خوشی ہوئی کہ پاکستان کا نام بھی ہسپتالوں کی وجہ سے رپورٹ کا حصہ بن چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ نام کمانے کی وجہ خراب کارکردگی اور گرا ہوا معیار ہے، تحریک انصاف اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کو عطیات دینے والوں کو یہ دعوی کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں اور نہ ایسا کوئی دعوی برحق ہوگا کہ پاکستان کا نام رپورٹ میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی وجہ سے آیا ہے، میں دعوی کرنے والوں کے گوش گزار کرانا چاہتا ہوں کہ یہ رپورٹ ایک غیرملکی ادارے نے دنیا بھر کے سرکاری ہسپتالوں کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کیا ہے، جس میں نجی ہسپتالوں کو منشن نہیں کیا گیا ہے اگر کیا جاتا تو کم سے کم شوکت خانم ہسپتال کی وجہ سے پاکستان کی نیک نامی ہوتی____
رپورٹ کے مطابق پاکستان سے صرف چند ایک ممالک آگے ہیں جیسے ایک کا نام بنگلہ دیش ہے اور دوسرے کا نام صومالیہ ہے، تیسرے کا نام خود ہی ڈھونڈ لیجئے جو صومالیہ اور بنگلہ دیش کے ٹکر کا ہو، ہمارے لئے تو بڑے فخر کی بات ہے کہ کسی نہ کسی طرح غیرملکی ایجنسی کی رپورٹ میں ہمارا نام تو آیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ دونوں ممالک خراب کارکردگی میں پاکستان سے پیچھے ہیں. کسی شاعر نے کہا تھا...
ہونٹوں پہ کبھی انکے میرا نام ہی آئیے
آئیے تو سہی برسر الزام ہی آئیے
ویسے ہمارے ملک میں صحت و تن درستی کے لئے قومی اور صوبائی سطحوں پر جو اقدامات کئے جاتے ہیں اس سے تو نہیں لگتا کہ پاکستان میں صحت کے مسائل موجود ہیں، یہاں کوئی بیمار نہیں ہوتا جبھی ہسپتالز بنانے پر حکومت توجہ دیتی ہے نہ ڈاکٹرز تعینات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ دوائیاں خرید کر رکھنے کی، دوائیاں زیادہ وقت رکھنے سے خراب ہو جاتی ہیں، اور ہسپتالز کے بلڈنگز جب لمبے عرصے تک استعمال میں نہ لایا جائے تو بھوت بنگلے بن جاتے ہیں، اس لئے حکومتوں کی پوری کوشش رہتی ہے کہ جب تک مناسب تعداد میں لوگ مریض نہیں بن جاتے تب تک نہ ہسپتال بنائے جائنگے اور نہ ان میں دوائیاں رکھی جائینگے، یہ خالص اصولی موقف ہے...
اکثر لوگ تنقید کرتے ہیں کہ نواز شریف وزیراعظم ہے تو اسے باہر سے علاج کرنے کی کیا ضرورت ہے، بلکہ یہ تو غیر اخلاقی ہے میں انہیں بتا دوں ایک ہمارے وزیراعظم ہی ہے جو بادل نخواستہ بیمار پڑگئے تو باہر علاج کرنے گئے، یہ ہماری سخت کوتاہی نہیں ہے تو اور کیا ہے، اگر یہاں لوگ بیمار ہوجانے کا نام لیتے تو ہسپتالز بھی بن جاتے دوائیاں بھی ان میں رکھی جاتیں اور ڈاکٹرز بھی تعینات کئے جاتے، اگر یہ سب ہوتا تو میاں صاحب کو باہر جانے کی ضرورت کیوں پڑتی،.
خواجہ آصف بلاوجہ شوکت خانم پر کھلے عام تنقید نہیں کر رہے تھے مریم نواز غیرضروری طور پر پانامہ لیکس کے جواب میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے خلاف مہم نہیں چلا رہی تھی، اس کی ایک اہم وجہ تھی، دیکھو ایک ماہ نہیں گزرا حکومت کی شوکت خانم ہسپتال کے خلاف کمپین چلاتے ہوئے اور سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں ایک عالمی رپورٹ میں پاکستان جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا، اپنی کارکردگی سے جواب دینا اسے کہتے ہیں، اسے منہ پر جواب دینا یا ترکی بہ ترکی جواب دینا بھی کہتے ہیں،
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت صحت کے مسائل پر کتنی توجہ دے رہی ہے اسکا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگالیجئے کہ پنجاب حکومت نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں سے ہر شہری کی صحت پر پورے کے پورے دس روپے خرچ کریں گی، یہ دس بھی پورے خرچ نہیں ہو پاتے گزشتہ سال صحت کا بجٹ ضائع ہو رہا تھا تو وزیراعلی شہباز شریف نے اسے ترقی کے منصوبوں جیسے مالٹا ٹرین، کینو سڑک، ایپل وے وغیرہ بنانے پر صرف کردیا تھا، شہباز شریف نے ہر فرد کی صحت کیلئے دس روپے کے حساب سے بجٹ سے تو الگ کرلیا عمران خان نے کیا کرلیا، اب بھی زکواۃ مانگتے ہیں اور لوگوں سے زبردستی رمضان پارٹیاں لیتے ہیں،. جبکہ اس کے ہسپتالز کا حال یہ ہے کہ پوری دنیا کے کارکردگی کے لحاظ سے خراب ہسپتالز میں انکا معمولی شان ذکر بھی نہیں جبکہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالز کا کارکردگی کے لحاظ سے دنیا بھر کے ہسپتالوں میں 5911 نمبر ہے، پاکستان سے بری کارکرگی میں صرف صومالیہ اور بنگلہ دیش پیچھے رہ گئے ہیں..
یاد رہے شوکت خانم دنیا بھر میں وہ پہلا ہسپتال ہے جو اوسطا سب سے زیادہ غریبوں کو دنیا کا سب سے مہنگا علاج بلکل بلامعاوضہ دیتے ہیں، دنیا کے ٹاپ ٹین بہترین تحقیقی اداروں میں سے ایک ادارہ بھی ہے..
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments