او آئی سی ایک ایسا ادارہ جس پر بیرونِ ملک رہنے والے اعتماد کرتے ہیں ٬
اور
اسی کے بنائے ہوئے قوانین پر چل کر نئے پاکستان کیلیۓ دن رات مصروف زندگی میں بھی وقت نکال کر تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے ہیں٬
پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت ان لوگوں نے اختیار کی جو لوگ پرانے سیاسی نظام سے عوام کو مرتے تڑپتے بِلکتے دیکھ رہے تھے ٬ ضمیر کی پکار پر نیا پاکستان بنانا چاہتے تھے اور اس کیلئے عمران خان کے علاوہ کوئی اور نام اعتماد کے قابل نہیں تھا٬
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جوق درجوق پارٹی کو مقبول بنانے کیلئے اکٹھے ہونا شروع کیا اور بہت کام کیا کہ تحریک انصاف بیرون ملک سب سے زیادہ مِوثر اور کارآمد جماعت بن گئی٬
کیونکہ یورپ مین رہائش پزیر لوگ اسلام کا عملی قانون یہاں نافذ ہوتے دیکھتے ہیں جس میں کسمپرس لوگوں کی اعانت ٹیکس کا صاف شفاف نظام جو دوبارہ عوام کی فلاح بہبود پر خرچ کر کے انہیں دنیا میں ہی جنت کی سیر کروائی جاتی ہے٬ بیماروں کا مفت علاج معالجہ ریٹائرمنٹ پر ذلیل و خوار ہونے کی بجائے ماضی کے کام کا انعام ٬ نئی نسل کیلئے ہر نئے سال نئے پراجیکٹس کھیل سیرو تفریح اعلیٰ تعلیمی سہولیات کو مفت فراہم کر کے اپنے ملک کو نئی ٹیکنالوجی سے مزید طاقتور بنا کر دنیا پر حکومت کرتے ہیں٬ ٬
یہ وہ مضبوط نظام حکومت ہے جس کو بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن حسرت سے دیکھتے ہیں٬ اور سوچتے ہیں کہ نجانے کب ہمارے ملک میں بھی نظام نافذ ہوگا جس پر کسی شخصیت کی چھاپ ختم ہوگی ٬ شخصیات حکومت جانے سے نظام تہہ و بالا نہیں ہوگا٬ ادارے مضبوطی سے بنیادوں پے کھڑے ویسے ہی کام کرتے رہیں گے٬
یہ سب سوچیں پہلی بار کسی کے منہ سے بار بار سنیں تو وہ عمران خان تھا٬
جس نے عملی ثبوت الیکشن میں تاخیر سے داخل ہونا پسند کر کے ووٹ کم کر لئے لیکن الیکشن میں جانے سے پہلے اپنی پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ٬ اور منتخب نمائیندوں کے ساتھ پہلی بار سیاسی کلچر کی بنیاد رکھی٬ اس کے بعد مرکزی الیکشن میں داخل ہوئے ٬ گو پارٹی الیکشن کی وجہ سے وہاں نقصان اٹھانا پڑا لیکن عمران خان نظام کو مضبوط کرنے کیلیۓ ایسے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمیشہ سے عادی ہیں٬
یہی آئین یہی قانون جس پر عمل درآمد کر کے مشکل طویل مرحلے کو طے کیا گیا اور بیرون ملک انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کروایا گیا٬
مشتاق خان جدون پہلی بار چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے منظر عام پر ابھرے اور انہوں نے دن رات محنت کر کے بالکل صاف شفاف انداز میں وہ کام کر دکھایا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں٬ بغیر کسی دباؤ کو خاطر میں لائے آخر کار وہ کامیاب ہوئے اور پہلی بار فرانس کی تاریخ میں ایک منتخب آئینی پینل بن گیا٬
بد نصیبی یہ رہی کہ اس پینل کو چناؤ سے پہلے کچھ ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جو یہ حل نہ کر سکے اور کچھ معاملات پر افہام و تفہیم کرنا پڑی ٬
جن میں سے ایک وویمن ونگ کی صدارت کا مسئلہ زیر بحث تھا ٬ جس کو الیکشن کے نتیجے سے پہلے ہی فائنل کروا لیا گیا٬ کسی نے اس پر بحث اس لئے نہیں کی کہ معاملات کو احسن انداز میں تکمیل تک پہنچا کر یورپ میں پارٹی کیلیۓ ہموار راستہ منتخب کیا جانا تھا٬ لہٰذا بادل ناخواستہ سب نے اسے تسلیم کیا٬
مجھے کئی بار مختلف لوگوں نے اس بات پر ابھارا کہ تقرری کو چیلنج کیا جائے لیکن میرا ہمیشہ یہ جواب رہا کہ ادارے بنانے ہیں اور مضبوط کرنے ہیں تا کہ پی ٹی آئی کا نظام اپنی مضبوطی کو ثابت کرے٬ ہمارا ذاتی جھگڑا تو کسی سے ہے نہین جو گرائیں٬ مقررہ مدت تک وہ اپنا کام کریں ٬ لیکن اب بات جب کھل کر سامنے آئی ہے تو انشاءاللہ اب پھر وہی جملہ دہراؤں گی کہ ہمیں نظام کا ہمیت دینی ہے ٬ شخصیت کو اس سے جڑے مضبوط گروپ اور اثر و رسوخ کو نہیں٬ یہی فرق ہے دیگر پارٹیز اور تحریک انصاف میں اور اسی فرق کوقائم و دائم رکھنا ہے انشاءاللہ
نا انصافی تحریک انصاف میں اللہ تعالیٰ کو بھی پسند نہیں ٬ لہٰذا کسی اور ایشو پر بات ہوتے ہوتے جب بحث بڑہی تو معلوم ہوا کہ وویمن ونگ کا آئینی انداز بالکل اس سے مختلف ہے جو 23 فروری کو حلف وفاداری کی تقریب میں اختیار کیا گیا ہے٬
وویمن ونگ آئینی لحاظ سے صرف ایک عہدہ جو پارٹی کا صدر دے سکتا ہے٬ وہ ہے سیکیرٹری ٬ باقی تمام کی تمام خواتین صرف برابری کی سطح پر ممبران ہوں گی ٬ اور پارٹی کیلئے کام کریں گی٬
یہ معاملہ آئینی انداز میں جب متنازعہ بنا تو ڈاکٹر ہمایوں مہمند صاحب کو میں نے فون کیا ان کا کہنا تھا
کہ اس میں ابہام کی تو کوئی بات ہی نہیں آئین بڑی سوچ بچار کے بعد بنایا گیا ہے٬ ۤ
اس کی شق 5 کا مطالعہ کریں وہاں صاف لکھا ہوا ہے ٬
آئین میں لکھے جانے کے علاوہ اوور سیز چیپٹرز کے جنرل سیکیرٹری کا یہ بیان سن کر مزید کسی بات کے پوچھنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی ٬
لیکن
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سال مسلسل یہ دوسری سے تیسری دفعہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب صاف بات کرتے ہیں لیکن دوسری جانب سے ان کے ہی اپائنٹ کئے ہوئے جواد صاحب کوئی ایسی بات ذاتی حیثیت میں کہہ دیتے ہیں کہ بات خبروں کی زینت بن کر پارٹی کیلیۓ مسئلہ بنا دیتی ہے٬
جب آئین کہتا ہے کہ وویمن ونگ میں صرف سیکیرٹری ہےـ
تو آئین کی اتنی ضخیم تحریر میں لکھے ہوئے حرف "" سیکیرٹری "" کو "" ہیڈ "" میں جواد صاحب کیسے تبدیل کر سکتے ہیں ٬
کیا تحریک انصاف کے آئین کو تبدیل کرنا یا اُس میں ترمیم کرنا اتنا آسان ہے؟
میری عمران خان سے اور جہانگیر ترین سے درخواست ہے کہ بیرون ملک پارٹی چیپٹرکو شفاف بنانے کیلیۓ٬صاف واضح انداز اپنائیں ٬
ہم جیسے لوگ نظریاتی ہیں ہمیں عہدوں کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ٬ ہمیں کام کرنا ہے بطورِ کارکن ہم زیادہ آزادی سے کام کر سکتے ہیں ٬
آمرانہ انداز اور یکطرفہ سوچ کے ساتھ پارٹی کو فرانس میں نہیں چلایا جا سکتا٬
ازراہِ کرم اس بات کو سنجیدہ انداز میں لے کر فوری طور پے کوئی واضح حکمتِ عملی اختیار کی جا ئے تا کہ مستقبل میں ان باتوں پر شکوک و شبہات ختم ہوں ٬
اور
جھگڑوں کی سیاست کا خاتمہ ہو اور کچھ تو کام کیا جا سکے٬
نیا پاکستان جواد صاحب کی ان مشکوک باتوں سے دور ہوتا دکھائی دیتا ہے٬
امید ہے اس آرٹیکل کو پڑھ کر اربابِ اختیار واضح انداز اختیار کرتے ہوئے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے مستقبل کیلئے حتمی فیصلہ دیں گے٬
کیا وقتی فیصلے سے آئین کے تقدس کو پائمال کیا جا سکتا ہے؟
سیکیرٹری کو ہیڈ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بنایا جا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب دے کر آپ ثابت کریں گے کہ تحریک انصاف ایک نظام کے تحت چل رہی ہے جس میں
او آئی سی کا غلطی پر احتساب کیا جا سکتا ہےکیونکہ وہاں فرشتے نہیں انسان ہیں ٬
پی ٹی آئی کی امتیازی شان یہی ہے کہ چئیر مین سمیت ہر انسان پر آپ کسی بھی اہم معاملے پر سوالات اٹھا سکتے ہیں جواب دینا ان پر فرض ہے ٬ اس لئے یہ سوال کسی تعصب ذاتی بغض عناد کے باعث نہیں نظام کی مضبوطی کیلئے اٹھائے جا رہے ہیں٬
حل ہونے کے بعد ہی تو ہم سب نے مل کر مضبوط ادارے آئین قانون کے تحت بنانا جو ہے
انشاءاللہ
نیا پاکستان
by webmaster@insaf.pk (tkiadmin)
No comments:
Post a Comment
Thanks For Comments